انوارالعلوم (جلد 17) — Page 489
انوار العلوم جلد کا ۴۸۹ الموعود ایسے عالم سے خبر دی جس سے پہلے خبر نہ تھی۔یعنی یہ عاجز بھی حضرت ابن عمران کی طرح اپنے خیالات کی شب تاریک میں سفر کر رہا تھا کہ ایک دفعہ پردہ غیب سے انسی أَنَا رَبُّک کی آواز آئی اور ایسے اسرار ظاہر ہوئے کہ جن تک عقل اور خیال کی رسائی نہ تھی۔سواب اس کتاب کا متولی اور مہتم ظَاهِراً و بَاطِناً حضرت رب العالمین ہے اور کچھ معلوم نہیں کہ کس اندازہ اور مقدار تک اس کو پہنچانے کا ارادہ ہے اور سچ تو یہ ہے کہ جس قدر اُس نے جلد چہارم تک انوارِ حقیت اسلام کے ظاہر کئے ہیں یہ بھی اتمام حجت کیلئے کافی ہیں اور اُس کے فضل و کرم سے امید کی جاتی ہے کہ وہ جب تک شکوک اور شبہات کی ظلمت کو بکتی دُور نہ کرے اپنی تائیدات غیبیہ سے مدد گار رہے گا۔اگر چہ اِس عاجز کو اپنی زندگی کا کچھ اعتبار نہیں لیکن اس سے نہایت خوشی ہے کہ وہ حی و قیوم کہ جو فنا اور موت سے پاک ہے ہمیشہ تا قیامت دینِ اسلام کی نصرت میں ہے اور جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم پر کچھ ایسا اس کا فضل ہے کہ جو اس سے پہلے کسی نبی پر نہیں ہوا۔۵ بہر حال یہ کتاب چونکہ اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالات کو ایک نئے رنگ میں دنیا پر ظاہر کرنے والی تھی ، اس لئے آریوں ، ہندوؤں ، عیسائیوں اور برہموؤں وغیرہ نے مل کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حملہ کر دیا اور افسوس یہ ہے کہ مسلمان بھی اس حملہ میں اُن کے ساتھ مل گئے حالانکہ یہ ایک موٹی بات تھی جس کو وہ آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے تھے کہ اسلام کی تائید میں یہ پہلی کتاب نہیں تھی جو شائع ہوئی ہو بلکہ اس سے پہلے خود مسلمان بیسیوں کتا ہیں اسلام کی تائید میں شائع کر چکے تھے مگر اُن کتابوں سے نہ عیسائیوں میں کوئی جوش پیدا ہوا ، نہ ہندوؤں میں کوئی جوش پیدا ہوا، نہ آریوں میں کوئی جوش پیدا ہوا اور نہ برہموؤں میں کوئی جوش پیدا ہوا۔پھر وجہ کیا تھی کہ اُن کتابوں سے تو اُن کے دلوں میں کوئی جوش پیدا نہ ہوا لیکن اِس کتاب کے نکلتے ہی عیسائی بھی جوش میں آگئے ، ہندو بھی غصہ سے بھر گئے ، آریہ بھی مقابلہ کے لئے نکل کھڑے ہوئے ، برہمو سما جی بھی اس کے اثر کو باطل کرنے کی طرف متوجہ ہو گئے اور تمام غیر مذاہب کے مشنری اور مبلغ اشتہاروں، ٹریکٹوں اور کتابوں کے ذریعہ اُس کا