انوارالعلوم (جلد 17) — Page 490
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۹۰ الموعود جواب دینے لگ گئے۔یہاں تک کہ بعض نے اچھا خاصا گند اُچھالا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صداقت کے وہ دلائل جو براہین احمدیہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش فرمائے تھے اُن کے خلاف انہوں نے پے در پے لکھنا شروع کر دیا۔یہ شور جو غیر مذاہب کے مشنریوں اور اُن کے مبلغوں میں پیدا ہوا اور جس نے اُن کی صفوں میں ایک تزلزل پیدا کر دیا مسلمانوں کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی تھا اور وہ اگر ذرا بھی غور اور تدبر سے کام لیتے تو اس حقیقت کو آسانی کے ساتھ سمجھ سکتے تھے کہ اس کتاب میں کوئی ایسی چیز ضرور ہے جس سے مسیحی مبلغ اور آریہ مشنری سخت گھبراتے ہیں۔اگر کوئی ایسی چیز اس کتاب میں موجود نہ ہوتی تو وہ سب کے سب آپ کے پیچھے کیوں پڑ جاتے۔مخالفت کا اصل راز اصل بات یہ ہے کہ دشمن کی توجہ ہی صحیح حقیقت کا انکشاف کیا کرتی ہے اور بااثر طبقہ کی طرف سے مخالفت ہی کسی چیز کی اہمیت کا ثبوت ہوا کرتی ہے۔اگر کوئی چیز دشمن کے مقابلہ میں پیش کی جائے تو خواہ پیش کرنے والا اُسے کتنا ہی بڑا کامیاب حربہ قرار دے اگر دشمن اُس کی مخالفت نہیں کرتا ، اگر وہ اُس کو کوئی اہمیت نہیں دیتا تو یہ قطعاً نہیں کہا جا سکتا کہ وہ چیز فی الواقع دشمن کے لئے خطرناک ہے یا بہت بڑا کامیاب حربہ ہے لیکن اگر وہ فوراً مخالفت شروع کر دیتا ہے تو یہ اس بات کا ثبوت ہوتا ہے کہ اُس پر کاری حملہ ہوا ہے اور اب اُسے اپنے بچاؤ کا فکر لاحق ہو گیا ہے۔پس مخالفین اسلام کا گھبرانا ، اُن کا شور مچانا ، اُن کا گند اچھالنا ، اور اُن کا براہین احمدیہ کی اشاعت پر اس کی تردید کے لئے کمر بستہ ہو جانا خود اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ اس کتاب کو اپنے لئے ایک زبر دست خطرہ سمجھنے لگ گئے تھے اور وہ سمجھتے تھے کہ اگر اسلام کی حفاظت کا یہ سلسلہ اِسی رنگ میں جاری رہا تو اسلام غالب آ جائے گا اور ہم مغلوب ہو جائیں گے۔مگر مسلمانوں نے اس نکتہ کو نہ سمجھا اور انہوں نے خود بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر حملے شروع کر دیئے اور اس طرح عیسائیت اور آریہ سماج کا ہاتھ مضبوط کر نے لگ گئے۔پنڈت لیکھرام اور منشی اندر من حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب یہ حالات دیکھے تو آپ نے اشتہاروں کے مراد آبادی کا مقابلہ ذریعہ دشمنوں کا مقابلہ کرنا شروع کر دیا۔اس