انوارالعلوم (جلد 17) — Page 323
غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ انوار العلوم جلد ۱۷ ۳۲۳ اور ہماری محبت اور شرافت چاہتی تھی کہ ہم خاموش رہیں تا یہ نہ سمجھا جائے کہ ہم اپنے بھائیوں کے بھائیوں کو مارنے کے لئے آمادہ بیٹھے ہیں۔ورنہ يَارَسُولَ اللَّهِ ! یہ تو کوئی سوال ہی نہیں ہم ہر طرح لڑنے کے لئے آمادہ ہیں۔پھر اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! آپ جو بار بار فرمارہے ہیں کہ اے لوگ مجھے مشورہ دو تو شاید اس سے آپ کا اشارہ بیعت عقبہ کی طرف ہے یعنی اُس پہلی بیعت کی طرف جو مدینہ میں ہوئی اور جس میں ہم نے اقرار کیا تھا کہ ہم آپ کی صرف اُس وقت مدد کریں گے جب آپ مدینہ میں ہوں گے اگر آپ مدینہ سے باہر لڑنے کیلئے جائیں گے تو ہم آپ کی مدد کے ذمہ وار نہیں ہوں گے۔يَارَسُولَ اللهِ! جب ہم نے وہ عہد کیا تھا کہ ہم صرف اُسی وقت مدد کے ذمہ وار ہوں گے جب آپ مدینہ میں ہوں گے اگر مدینہ سے باہر نکل کر آپ کو کسی قوم کا مقابلہ کرنا پڑا تو ہم پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں ہوگی ، اُس وقت ہمیں آپ کی شان کا پوری طرح علم نہیں تھا اور اسی وجہ سے ہم نے یہ شرطیں لگائی تھیں لیکن اب جبکہ ہمیں آپ کی شان کا پتہ لگ چکا ہے۔يَا رَسُولَ اللهِ ! یہ کوئی سوال ہی نہیں کہ مدینہ میں جنگ ہو یا مدینہ سے باہر ہو۔يَارَسُولَ اللهِ ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے۔آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا ج تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے ہے یہ اُس وقت کا جذبہ ایمان ہے جب ابھی رسول کریم ﷺ کا نور پورا ظاہر نہیں ہوا تھا۔بہت سے معجزات ہیں جو اِس کے بعد ظاہر ہوئے ، بہت سے نشانات ہیں جو اس کے بعد ظاہر ہوئے ، بہت سا حصہ قرآن کا ہے جو اِس کے بعد نازل ہوا۔اگر ہر معجزہ انسان کے ایمان کو بڑھاتا ہے،اگر ہر نشان انسان کے ایمان کو بڑھاتا ہے، اگر قرآن کی ہر آیت انسان کے ایمان کو بڑھانے والی ہے تو یقیناً بعد میں ان کے لئے اپنے ایمان بڑھانے کے زیادہ مواقع تھے۔کیونکہ وہ اجمالی ایمان جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق انہیں حاصل ہوا تھا بعد میں تفصیلی ایمان کو جگہ دے کر ہلتا چلا گیا اور آخر میں ایک ایسا تفصیلی ایمان اُن کو نصیب ہوا جس کا کوئی زاویہ، جس کا کوئی کونہ اور جس کا کوئی گوشہ ایسانہ تھا جو مکمل نہ ہو۔جس کی تعمیر نہ ہو چکی ہو اور جس کی تزئین و تحسین نہ ہو چکی ہولیکن اس ابتدائی زمانہ میں ہی اس صحابی نے یہ کیسا شاندار فقرہ کہا کہ جب