انوارالعلوم (جلد 17) — Page 324
انوار العلوم جلد ۷ ۳۲۴ غزوہ غز وہ جنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ عليه يَا رَسُولَ اللهِ! ہم آپ کے آگے بھی لڑیں گے اور آپ کے پیچھے بھی لڑیں گے اور آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور آپ کے بائیں بھی لڑیں گے اور دشمن آپ تک نہیں پہنچ سکتا جب تک وہ ہماری لاشوں کو روندتا ہوا نہ گزرے۔یہ اُس وقت انہوں نے کہا تھا جب رسول کریم علی جسمانی طور پر زندہ تھے، جب رسول کریم ﷺ کے ہاتھوں میں یہ طاقت تھی کہ دشمن کے ہتھیار کے مقابلہ میں ہتھیار اُٹھا سکتے ، جب آپ کے اندر یہ طاقت موجود تھی کہ آپ اُس کے حملہ کو روک سکتے ایسی صورت میں انسان کو اپنی حفاظت کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی جتنی ضرورت اُس وقت ہوتی ہے جب وہ ہتھیار نہیں اُٹھا سکتا ، مثلاً وہ سویا ہوا ہو۔سو یا ہوا انسان اپنی حفاظت نہیں کر سکتا اُس وقت اُسے اپنے دوستوں اور خیر خواہوں کی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔یا فرض کرو وہ غیر حاضر ہے اور اس کی غیر حاضری میں کوئی شخص اُس کی عزت و ناموس پر حملہ کرتا ہے تو اُس وقت بھی اُسے اپنے دوستوں کی امداد کی ضرورت ہوتی ہے۔منہ دیکھے کی محبت جتانے کے لئے سارے ہی موجود ہوتے ہیں لیکن اصل محبت وہ ہوتی ہے جو غیبت میں ہوتی ہے۔تو وہ وقت ایسا تھا جب رسول کریم ﷺ اپنی جان کی خود بھی حفاظت کر سکتے تھے اور انہوں نے ایسا الله کر کے دکھا بھی دیا۔اُحد کی جنگ میں جب ایک شدید دشمن آگے بڑھا اور رسول کریم ﷺ کا نام لیکر کہنے لگا وہ خود کیوں میرے مقابلہ میں نہیں نکلتے۔تو چونکہ وہ ایک مشہور اور تجربہ کار جرنیل تھا ، صحابہ آپ کے ارد گر د ا کٹھے ہو گئے مگر آپ نے فرمایا آگے سے ہٹ جاؤ اور اُ سے آنے دو۔جب وہ آپ کے سامنے آیا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا نیزہ بڑھا کر اُس کے سینہ کو چھو دیا اور بہت ہلکا سا زخم لگایا مگر وہ اِس معمولی زخم سے ہی بھاگ اُٹھا اور درد سے اُس نے تڑپنا شروع کر دیا۔جب لوگ اُسے کہتے تجھے ہوا کیا ہے، زخم تو بہت معمولی سا ہے تو وہ کہتا تمہیں کیا معلوم مجھے اس زخم سے ایسی سخت تکلیف ہے کہ گویا وہ ہزار نیزوں کے زخموں سے بھی بڑھ کر ہے۔سے تو رسول کریم خدا کی حفاظت میں تھے پھر بھی اس دنیا میں آپ جب تک بقید حیات تھے اور دشمن کا مقابلہ کر سکتے تھے آپ نے اُس کا مقابلہ کیا اور لوگوں کیلئے ایک نمونہ قائم کر کے دکھا دیا۔چنانچہ حنین کے موقع پر ہم دیکھتے ہیں ایک حادثہ کی وجہ سے قریباً سارے صحابہ میدانِ جنگ