انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 322 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 322

انوار العلوم جلد ۷ ۳۲۲ غزوہ غز و چنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ غزوہ حنین کے موقع پر صحابہ کرام کا قابل تقلید نمونہ ( تقریر فرموده ۶ ارجون ۱۹۴۴، ال تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فر مایا :- آج سے تیرہ سو سال پہلے بلکہ اب تو کہنا چاہئے ساڑھے تیرہ سو سال پہلے ایک جنگل میں کچھ لوگوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جمع کیا اور انہیں کہا ہمارے سامنے دو دشمن ہیں۔ایک دشمن تو وہ قافلہ ہے جو شام سے مکہ والوں کے لئے غذاؤں کا سامان اور لباسوں کا سامان لا رہا ہے اور ایک دشمن وہ ہتھیار بند فوج ہے جس کی تعداد ہماری تعداد سے کہیں زیادہ ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارا مقابلہ غالبا اس ہتھیار بند فوج سے ہوگا مجھے الہی اشارات سے یہی معلوم ہوتا ہے اب تم لوگ بتاؤ تمہاری کیا صلاح ہے؟ ایک کے بعد دوسرا مہاجر اُٹھنا شروع ہوا اور ہر ایک نے یہی کہا کہ يَا رَسُولَ اللهِ ! ہم لڑنے کے لئے تیار ہیں آپ ہمیں آگے بڑھنے کا حکم دیجئے۔جب کوئی مہاجر مشورہ دے کر بیٹھ جاتا تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے اے لوگو! تم مجھے مشورہ دو جب متواتر آپ نے یہی ارشاد فر مایا کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو تو ایک انصاری کھڑے ہوئے اور انہوں نے کہا يَا رَسُولَ اللهِ! شاید آپ کی مراد ہم سے ہے۔آپ متواتر فرما رہے ہیں کہ اے لوگو! مجھے مشورہ دو حالانکہ مشورہ آپ کومل رہا ہے اور ہمارے کئی مہاجر بھائی کھڑے ہو کر اپنے خیالات کا اظہار کر چکے ہیں پس غالباً آپ کی مراد ہم انصار سے ہے کہ اس موقع پر ہم بولیں۔آپ نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے۔انہوں نے کہا يَارَسُولَ اللَّهِ! ہم اس لئے چپ تھے کہ ہمارے ان مہاجر بھائیوں کے بھائی ہم سے لڑنے کیلئے آئے ہوئے ہیں