انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 278 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 278

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۷۸ زندگی وقف کرنے کی تحریک شامل کر کے پونے سترہ لاکھ روپیہ سالانہ اگر ہم تبلیغ پر خرچ کریں تو ہندوستان اور یورپ میں اقل ترین تبلیغ کی جاسکتی ہے۔لیکن تحریک جدید کی تو دس سالہ آمد ملا کر بھی اتنی نہیں کہ ان اخراجات کو صرف ایک سال کے لئے برداشت کر سکے۔یہ سال گزشتہ تمام سالوں سے اچھا رہا ہے مگر اس سال بھی جماعت کی طرف سے صرف سوا تین لاکھ روپیہ کے وعدے آئے ہیں اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان وعدوں میں سے پورے کتنے ہوں گے۔ابھی پچھلے سالوں کے وعدوں میں سے بھی پچاس ہزار روپیہ کی وصولی باقی ہے۔گویا اگر ہم تحریک جدید کی ایک سال کی ساری آمد بھی تبلیغ پر خرچ کر دیں تو ہم ہندوستان اور بیرون ہند میں اقل ترین تبلیغ بھی نہیں کر سکتے۔ابھی ہماری زمینوں سے اتنی آمد شروع نہیں ہوئی کہ یہ کمی پوری ہو سکے بلکہ ہمیں اپنی زمینوں کے لئے ابھی اچھے کا رکن بھی میسر نہیں آسکے۔اگر ان زمینوں کی اچھی پیداوار ہو تو ایک لاکھ روپیہ سالانہ کی اس ذریعہ سے بھی امید ہو سکتی ہے لیکن اگر ہم اس آمد کو تبلیغ کے جاری اخراجات پر خرچ کر دیں تو پھر ریز رو فنڈ قائم نہیں ہو سکتا بلکہ اگر ہم تحریک جدید کا چندہ آئندہ سالوں میں جاری رکھیں تب بھی ہم نے تبلیغی اخراجات کا جواقل ترین اندازہ لگایا ہے بمشکل اس کا نواں حصہ پورا ہو سکتا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یورپ جیسا براعظم جس کی تمیں کروڑ سے زیادہ آبادی ہے وہاں ایک لاکھ آدمیوں پر ایک مبلغ ہوتب صحیح طور پر تبلیغ ہوسکتی ہے۔گویا تمیں کی بجائے ہمیں وہاں تین سو مبلغ رکھنے چاہئیں۔اور اگر امریکہ کو بھی شامل کر لیا جائے تو ان مبلغوں کی تعداد چھ سو تک بڑھانی پڑتی ہے۔ہندوستان جو ہمارا مرکز ہے یہاں درحقیقت ہما را کم سے کم دو ہزار مبلغ ہونا چاہئے لیکن اگر ان باتوں کو دور کی باتیں سمجھ لو تو بھی پانچ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ کا اندازہ تو ایک معمولی بات ہے مگر ابھی ہماری جماعت میں اتنی وسعت نہیں کہ ان اخراجات کو پورا کر سکے یا ابھی اتنا قربانی کا مادہ نہیں کہ اس خرچ کو برداشت کر سکے۔میں سمجھتا ہوں اگر ہماری جماعت یہ فیصلہ کر لے کہ جیسے حضرت مسیح ناصری کی جماعت کے لوگ فقیر کہلانے لگ گئے تھے اسی طرح وہ خدا کیلئے اپنا سب کچھ قربان کرنے کیلئے تیار ہو جا ئیں تو یہ پانچ لاکھ روپیہ سالانہ کی رقم بڑی آسانی سے مہیا ہوسکتی ہے۔مگر یہ ضروری نہیں ہوتا کہ ہر شخص کے دل میں اعلیٰ درجہ کا ایمان ہو۔کچھ لوگ ایمان کے لحاظ سے اعلیٰ درجہ رکھتے ہیں کچھ ادنی درجہ رکھتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو درمیانی