انوارالعلوم (جلد 17) — Page 279
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۷۹ زندگی وقف کرنے کی تحریک مقام پر ہوتے ہیں۔یہ حالات مدنظر رکھتے ہوئے جبکہ ابھی ہماری جماعت کو وہ مالی وسعت حاصل نہیں کہ ان اخراجات کو برداشت کر سکے یہی صورت نظر آتی ہے کہ لوگ اپنے اپنے اخراجات پر باہر نکل جائیں اور خدا تعالیٰ کے دین کی اشاعت کریں۔مثلاً مغربی افریقہ ہے میں نے اور ممالک کا ذکر کرتے ہوئے اس کو چھوڑ دیا تھا۔یہاں ہماری جماعت کے لئے ایک بہت بڑا تبلیغی میدان پڑا ہے اور پرانی اقوام دین کی باتیں سننے کے لئے پیاسی بیٹھی ہیں۔یہاں اخراجات بھی بہت کم ہیں پچاس پچاس ساٹھ ساٹھ روپیہ میں آسانی سے گزارہ ہو سکتا ہے اور پھر ان لوگوں میں بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قربانی کرنے والے ہیں باوجود جاہل ہونے کے باوجود دینی تعلیم سے کورے ہونے کے اور باوجود موجودہ تہذیب و تمدن کی روشنی سے نا آشنا ہونے کے وہ اتنی جلدی اپنے تبلیغی اخراجات برداشت کرنے لگ جاتے ہیں کہ ہندوستان میں بھی لوگ اتنی جلدی تبلیغی اخراجات برداشت نہیں کرتے۔وہ فورامدر سے قائم کر لیتے ہیں، مسجد میں بنا لیتے ہیں اور اخراجات کا بوجھ خود اٹھانے لگ جاتے ہیں۔پس بہت بڑی بیداری ہے جو ان لوگوں میں پائی جاتی ہے اور قربانی کی روح ہے جو اُن میں نظر آتی ہے۔یہ علاقہ ہماری تبلیغ کے لئے بہت ہی مبارک ہے۔ہمیں وہاں روپیہ بھجوانے کی بہت کم ضرورت پیش آتی ہے کیونکہ وہاں کی جماعتیں خود اپنے اخراجات برداشت کر لیتی ہیں۔ابھی ہمارے مبلغ نے لکھا ہے کہ اگر وہاں تبلیغ کے لئے جماعت کے دوستوں کو بھجوایا جائے تو چھ مہینہ کے بعد مقامی جماعتیں ان کے اخراجات برداشت کرلیں گی۔یہ لوگ ایسے ہیں جیسے کوئی سخت پیاسا ہوتا ہے اور پانی کے لئے چاروں طرف دیکھ رہا ہوتا ہے۔دنیا نے اِن لوگوں پر اس قدر مظالم کئے ہیں کہ اب وہ اس بات کی امید لگائے بیٹھے ہیں کہ کوئی آئے اور اُن کی تعلیم و تربیت کا انتظام کر کے انہیں عزت و آبرو کے مقام تک پہنچائے اور یہ بات اسلام اور احمدیت کے سوا انہیں کسی جگہ میسر نہیں آسکتی۔افریقہ کے مغربی اور مشرقی یہ دو علاقے ایسے ہیں جن میں میرے نزدیک ہمیں اس وقت ایک سو مبلغوں کی ضرورت ہے۔وہاں کا گزارہ پچاس روپیہ ماہوار میں ہو جاتا ہے کچھ گزارہ ہمیں مبلغین کے اہل وعیال کو بھی دینا پڑتا ہے۔اسی طرح لٹریچر کے اخراجات اور آمد و رفت کے کرایہ وغیرہ کو شامل کر کے ڈیڑھ لاکھ روپیہ سالانہ خرچ ہوسکتا ہے لیکن مبلغین کے اخراجات چونکہ بالعموم وہ لوگ خود برداشت کر لیتے