انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 276 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 276

انوار العلوم جلد ۱۷ زندگی وقف کرنے کی تحریک ہیں ہزار روپیہ کے ذریعہ ہم ملک کی چوتھائی آبادی تک اپنی آواز پہنچا سکتے ہیں۔بلکہ درحقیقت ہم صرف بیسویں حصہ تک آواز پہنچائیں گے آگے یہ امید کر لیں گے کہ وہ اور لوگوں کو بھی یہ پیغام پہنچا دیں گے۔گو یا اگر ہم انگلستان کے مبلغ کو بیس ہزار روپیہ لٹریچر کے لئے دیں تب وہ مبلغ تھوڑا بہت کام کرتا ہوا نظر آ سکتا ہے۔مگر واقعہ یہ ہے کہ ہم اسے ہیں ہزار تو گجا دوسو روپیہ بھی نہیں دیتے گویا وہ وہاں بیٹھا صرف روٹی کھا رہا ہے۔پھر تبلیغ کے لئے صرف اشتہار ہی کافی نہیں ہیں بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ لوگوں سے ملا جائے اور اُن سے ذاتی طور پر واقفیت پیدا کر کے انہیں تبلیغ کی جائے۔مگر اتنا بڑا ملک جو ایک لمبے عرصہ سے دنیا کی آلائشوں میں ملوث چلا آ رہا ہے اور دنیا کی محبت اُس پر غالب ہے اُن کے پاس ایک آدمی کس طرح پہنچ سکتا ہے۔پس میں نے یہ سوچا ہے کہ وہاں ہمارے کم سے کم پانچ مبلغ ہونے چاہئیں۔دو مبلغ ہر وقت لندن میں رہیں اور دو مبلغ مختلف شہروں میں دورہ کرتے رہیں اور جو لٹر پچر وغیرہ شائع ہوا سے لوگوں میں تقسیم کریں تا کہ بار بار کے دوروں سے لوگوں کے دلوں میں یہ تحریک پیدا ہو کہ فلاں اشتہار جو ہمیں ملا تھا اُس کا لکھنے والا مولوی بھی آج یہاں آیا ہوا ہے، اس سے ہم ذاتی طور پر بھی مل لیں اور پوچھیں کہ وہ کیا کہتا ہے۔اس طرح لوگوں کو احمدیت کی طرف توجہ ہوگی اور ایک مبلغ بطور سیکرٹری کے ہو جو لٹریچر وغیرہ کی اشاعت، فروخت اور دوسرے ایسے ہی کاموں کی نگرانی کرے۔پس پانچ مبلغ صرف انگلستان میں ہونے چاہئیں۔انگلستان کے علاوہ یورپ میں یوں تو دس پندرہ ملک ہیں لیکن اگر مرکزی ممالک ہی لئے جائیں تو وہ جرمنی، اٹلی اور فرانس ہیں۔ان ممالک میں ابتدائی طور پر کم سے کم چھ مبلغ ہونے چاہئیں، ورنہ میرے نزدیک تو پندرہ مبلغوں کی ضرورت ہے۔چھ مبلغ ایک ایک جگہ رہیں اور چھ مبلغ دورہ کرتے رہیں۔مثلاً ہمارے کچھ مبلغ جرمنی ، اٹلی اور فرانس کے بڑے بڑے شہروں میں بیٹھ جائیں اور کچھ مبلغ ان ممالک میں تبلیغی دورے کرتے رہیں، کبھی کسی ملک میں جائیں اور کبھی کسی ملک میں اور تین مبلغ مراکز میں بطور سیکرٹری کام کریں۔پس پانچ انگلستان کے مبلغ اور چھ یہ ، گویا گیارہ مبلغ یورپ کے لئے ایک اقل ترین چیز ہیں۔اصل میں تو وہاں ہمیں مبلغ ہونے چاہئیں تب ہم اپنی آواز ایک محدود حلقہ تک پہنچا سکتے ہیں۔پھر