انوارالعلوم (جلد 17) — Page 275
انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۷۵ زندگی وقف کرنے کی تحریک اگر اس کو بھی مدنظر رکھ لیا جائے اور یہ سمجھ لیا جائے کہ اڑھائی ہزار روپیہ ماہوار زائد طور پر ایسے لٹریچر کے لئے رکھنا چاہئے تو تمہیں ہزار روپیہ سالانہ ہو گیا اور ایک لاکھ ستر ہزار میں شامل کر کے پورا دو لاکھ روپیہ بن گیا۔یہ تو صرف ہندوستان کے شہروں کی تبلیغ کا اندازہ ہے۔گاؤں کی تبلیغ اس کے علاوہ ہے۔گاؤں کی آبادی شہروں سے نو گنے زیادہ ہے مگر چونکہ وہاں خرچ شہروں سے کم ہوتا ہے۔اگر پانچ گنے زیادہ خرچ گاؤں کی تبلیغ کا رکھا جائے تو ہندوستان کی تبلیغ کیلئے جو معمولی ہوگی پچاس شہری مبلغ اور ساڑھے سات سو گاؤں کے مبلغ اور بارہ لاکھ روپیہ سالانہ کی ضرورت ہوگی۔اب رہی باہر کی تبلیغ۔میں نے سوچا ہے کہ بیرونی ممالک میں سے انگلستان سب سے مقدم ہے۔اسی ملک کے لوگ ہندوستان میں آئے اور انہوں نے ہمارے ملک کو فتح کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بھی انگلستان کے متعلق بڑی بڑی پیشگوئیاں ہیں اور اُن پیشگوئیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر انگلستان کیلئے اسلام لانا مقدر ہے۔اس وقت وہاں ہمارا صرف ایک مبلغ رہتا ہے اور ساڑھے چار کروڑ کی آبادی ہے۔ایک مبلغ چار کروڑ کی آبادی والے ملک میں رکھنا کوئی معنی ہی نہیں رکھتا اور پھر اس ایک مبلغ کیلئے بھی ہم صحیح طور پر تبلیغی سامان بہم نہیں پہنچار ہے۔اگر وہ مبلغ سال میں صرف ایک دفعہ دو صفحے کا اشتہار شائع کرے تو چار کروڑ کی آبادی میں ایک کروڑ اشتہار شائع ہونا چاہئے۔اگر ایک صفحہ کے ایک ہزار اشتہار کی صرف ایک روپیہ قیمت سمجھی جائے تو دو صفحہ کا اشتہار دو روپیہ میں ہزار چھپے گا اور چونکہ ہم نے ایک کروڑ اشتہار شائع کرنا ہے اس لئے ایک کروڑ کے لئے ہیں ہزار روپیہ ضروری ہوگا۔گویا اگر ہم اپنے مبلغ کو بیس ہزار روپیہ دیں تو وہ اس کے ذریعہ سال میں صرف ایک دفعہ انگلستان کے ہر آدمی تک پہنچ سکتا ہے بشرطیکہ بچوں وغیرہ کو نکال دیا جائے۔میں نے سوا دو کروڑ بچوں وغیرہ کو نکال کر بقیہ آبادی کے نصف پر اندازہ لگایا ہے مگر سال میں ایک دفعہ اشتہار پہنچنے پر کسی کو کوئی خاص توجہ نہیں ہو سکتی۔ضروری ہے کہ بار بار اشتہارات شائع کئے جائیں۔اس نقص کے ازالہ کیلئے اگر ہم صرف ہیں لاکھ آدمیوں تک اپنی آواز پہنچائیں اور یہ فرض کر لیں کہ ان میں سے ہر شخص آگے پانچ پانچ آدمیوں کو وہ اشتہار پہنچا دے گا اور اس طرح ایک کروڑ آدمیوں تک ہماری آواز پہنچ جائے گی تو سال میں ہیں لاکھ اشتہار ہم پانچ دفعہ شائع کر سکتے ہیں بجائے اس کے کہ یکدم ایک کروڑ اشتہار شائع ہو۔اس صورت میں