انوارالعلوم (جلد 17) — Page 84
۸۴ انوار العلوم جلد ۱۷ تفصیل کے ساتھ ذکر آتا ہے۔ادْعُوا إلى الله جس کے نتیجہ میں میں دنیا کو خدا کی طرف ل - عَلى بَصيرة کسی شک یا گمان کی بناء پر میں یہ نہیں کہہ رہا بلکہ میں خدا کو جان کر اور اُسے اچھی طرح پہچان کر لوگوں کو اُس کی طرف بلاتا ہوں۔وَ مَنِ اتَّبَعَنِي اور یہ خدا تعالیٰ کی معرفت کا مقام صرف مجھے ہی حاصل نہیں بلکہ جو لوگ میری صحبت میں رہنے والے ہیں اللہ تعالیٰ نے اُن میں بھی یہ ایمان پیدا کر دیا ہے۔وسبحن اللهِ وَ مَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ اور میں نے خدا کو اتنا دیکھا ہے اتنا دیکھا ہے کہ میرے دیکھنے میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش ہی نہیں۔مگر جب میں نے یہ کہا ہے کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے تو اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ خدا تعالیٰ مجسم ہے۔سُبحن الله خدا تعالیٰ مجسم نہیں ہے۔وَمَا أَنَا مِنَ المُشرکین اور میں مشرک نہیں ہوں۔پس جب میں یہ کہتا ہوں کہ میں نے خدا کو دیکھا ہے تو اُس کا مطلب صرف یہ ہے کہ میں نے خدا تعالیٰ کو اُسی رنگ میں دیکھا ہے جس رنگ میں اُسے دیکھا جا سکتا ہے۔اب ہم دیکھتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ دعویٰ آپ کی زندگی کے واقعات سے کہاں تک درست ثابت ہوتا ہے۔رسول کریم مال اللہ کا خدا تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی پر جب نگاہ دوڑائی جائے تو ہر شخص یہ ماننے پر مجبور ہو جاتا کی ذات پر بے مثال یقین ہے کہ آپ کو خدا تعالی کی ذات پر جو یقین حاصل تھا اُس کی مثال اور کسی نبی میں نہیں مل سکتی۔مکہ میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف بڑی بڑی سازشیں اور بڑی بڑی شورشیں ہوئیں۔آپ کو اس قدر تکالیف دی گئیں کہ آخر آپ کو مکہ چھوڑنا پڑا اور آپ نے مکہ سے نکلتے وقت یہ الفاظ فرمائے کہ اے مکہ! تو مجھے تمام شہروں سے زیادہ عزیز تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ تجھے چھوڑوں مگر تیرے رہنے والوں نے مجھے ٹھکرا دیا۔انہوں نے یہ پسند نہیں کیا کہ وہ اس برکت کو اپنے درمیان رہنے دیں اس لئے میں اب تجھے چھوڑ کر چلا ہوں سے آپ کا مکہ کو چھوڑنا اور مدینہ ہجرت کر کے جانا الہی منشاء کے مطابق تھا۔خدا تعالیٰ تو چاہتا تھا کہ مکہ والے اس برکت سے زیادہ سے زیادہ فائدہ حاصل کریں مگر جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کو ٹھکرا دیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اب ہم چاہتے ہیں کہ کوئی