انوارالعلوم (جلد 17) — Page 85
انوار العلوم جلد کا ۸۵ اور قوم تجھ سے فائدہ اُٹھائے۔چنانچہ آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے گئے۔جب آپ مکہ سے نکلے تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ آپ کے ساتھ تھے آپ انہیں لے کر غار ثور میں پہنچے۔یہ غار مکہ سے تین چار میل کے فاصلہ پر ہے۔اوپر سے دو تین گز چوڑی ہے لیکن اندر سے پندرہ ہیں گز ہے۔اُس زمانہ میں نقش پا پہچاننے والے اپنے فن میں بہت ماہر ہوا کرتے تھے۔اب بھی پنجاب کے اس علاقہ میں جو جانگلی کہلاتا ہے ایسے ماہر کھو جی مل جاتے ہیں کیونکہ اُن کا روزمرہ کا یہی کام ہوتا ہے۔کوئی کسی کی بکری لے جائے یا گائے یا بھینس چرا کر لے جائے تو وہ نقشِ پا کے پیچھے چلتے جاتے ہیں اور آخر چور کے دروازے تک پہنچ جاتے ہیں۔بریکا نیر وغیرہ کی طرف بھی ایسے ماہر تھے۔عرب لوگ بھی اُس زمانہ میں اس فن میں خاص طور پر ماہر تھے۔مکہ والوں کا ارادہ اُسی دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا تھا جس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت ہجرت کی۔جب صبح ہوئی اور مکہ والوں نے اندر داخل ہو کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ پایا تو انہوں نے بعض ماہر اپنے ساتھ لے کر نقش پا کا پیچھا کیا اور آخر چلتے چلتے وہ ٹور پہاڑ پر جا چڑھے اور کھوجی نے کہا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اس جگہ تک آئے ہیں اور پھر یہیں غار کے اندر چلے گئے ہیں۔کھوجی کی یہ بات سن کر سب ہنس پڑے کہ یہ کیسی احمقانہ بات کر رہا ہے غار کے منہ پر تو مکڑی نے جالا تنا ہوا ہے اگر وہ اندر گئے ہوتے تو جالا ٹوٹ نہ جاتا۔بعض باتیں بظاہر معمولی ہوتی ہیں مگر عقل پر پردہ ڈال دیتی ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اس وقت ایسے سامان پیدا فرمائے کہ مکڑی نے غار کے منہ پر جالا ئن دیا۔جن لوگوں نے مکڑی کو جالا بنتے دیکھا ہے وہ جانتے ہیں کہ مکڑی اتنی جلدی جالا بنتی ہے کہ حیرت آتی ہے۔اگر اُنگلی سے جالا تو ڑا جائے تو بعض دفعہ ایک منٹ کے اندراندر وہ پھر جالا بن دیتی ہے۔پس غار میں جب کوئی آدمی اُترے اور اُس کے منہ پر جالا ہو تو لازماً وہ جالا ٹوٹ جانا چاہئے مگر اللہ تعالیٰ نے ایسے سامان کئے کہ اِدھر آپ اُترے اور اُدھر مکڑی نے پھر حالا بن دیا۔لمبے لمبے تاگے ہوتے ہیں اور مکڑی اُن کو بڑی جلدی بُن دیتی ہے۔جب کھوجی نے دیکھا کہ پاؤں کے آثار اسی جگہ تک آتے ہیں تو اُس نے کہا کہ وہ اب یہیں کہیں چھپے ہونگے۔مگر غار کے منہ پر چونکہ مکڑی نے جالا بنا ہوا تھا اس لئے وہ سب ہنس پڑے کہ یہ کس طرح ہوسکتا ہے۔اس پر وہ کہنے لگا