انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 594 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 594

انوار العلوم جلد کا ۵۹۴ الموعود راتوں رات موٹر پر جموں گیا مگر جب صبح ہوئی تو مہا راجہ نے اُسے کہہ دیا کہ تمہیں وزارت سے الگ کیا جاتا ہے۔غرض کشمیر کے لوگوں کو جو کچھ ملا وہ میری جدو جہد کے نتیجہ میں ملا اور واقعہ یہ ہے کہ اگر کشمیر کے لوگ جلدی نہ کرتے تو گورنمنٹ آف انڈیا کی معرفت جو سمجھوتہ ہوتا اُس میں انہیں زیادہ حقوق مل جاتے اور گائے کا سوال بھی حل ہو جاتا۔میں نے ان واقعات کے بیان کرنے میں بہت سی باتیں چھوڑ دی ہیں اور بعض والیان ریاست کا نام بھی نہیں لیا۔اگر میں آخری مرحلہ کی تفصیل بیان کروں تو شاید بعض والیان ریاست اسے اپنی ہتک خیال کریں۔مگر چونکہ یہ واقعہ اب گزر چکا ہے اس لئے اس کی تفصیل میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔جلال الہی کا ظہور۔پانچویں خبر یہ دی گئی تھی کہ اس کا نزول جلال الہی کے ظہور کا موجب ہوگا۔یہ خبر بھی میرے زمانہ میں ہی پوری ہوئی۔چنانچہ میرے خلافت پر متمکن ہوتے ہی پہلی جنگ ہوئی اور اب دوسری جنگ شروع ہے۔جس سے جلال الہی کا دنیا میں ظہور ہو رہا ہے۔شاید کوئی شخص کہہ دے کہ اس وقت لاکھوں کروڑوں لوگ زندہ ہیں اگر ان لڑائیوں کو تم اپنی صداقت میں پیش کر سکتے ہو تو اس طرح ہر زندہ شخص ان کو اپنی تائید میں پیش کر سکتا ہے اور کہہ سکتا ہے کہ یہ جنگیں میری صداقت کی علامت ہیں۔اس کے متعلق میرا جواب یہ ہے کہ اگر اُن لاکھوں کروڑوں لوگوں کو جو اس وقت زندہ ہیں ان جنگوں کی خبریں دی گئی ہیں تو یہ ہر زندہ شخص کی علامت بن سکتی ہیں اور اگر اُن کو ان لڑائیوں کی خبر میں نہیں دی گئیں تو پھر جس کو ان جنگوں کی تفصیل بتائی گئی ہے اسی کے متعلق جلال الہی کا یہ ظہور کہا جائے گا۔مصلح موعود کا نام ”عالم کباب بھی رکھا گیا ہے اور گو یہ پیر منظور محمد صاحب کے لڑکے کا نام رکھا گیا تھا لیکن اس کے معنی یہی تھے کہ وہ لڑکا منظور محمد یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہوگا اور محمدی بیگم سے مراد سیدانی کی اولاد ہے۔ہر سیدانی بوجہ آنحضرت ﷺ کی ذریت ہونے کے محمدی بیگم ہے یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف نسبت ذریت رکھنے والی بیگم۔