انوارالعلوم (جلد 17) — Page 593
انوار العلوم جلد ۷ ۵۹۳ الموعود حالانکہ اُن سے بہت زیادہ حقوق کا ہم گورنمنٹ آف انڈیا کے ذریعہ فیصلہ کروا چکے تھے۔غرض کشمیر کے مسلمانوں کی آزادی کا تمام کام میرے ذریعہ سے ہوا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے مجھے اِس پیشگوئی کو پورا کرنے والا بنایا کہ مصلح موعود اسیروں کا رستگار ہوگا۔سر ہری کشن کول کی وزارت سے علیحدگی انہی ایام میں آخری دفعہ جب میں لا ہور گیا تو سر ہری کشن کول بھی وہاں آئے ہوئے تھے۔اُن کا میرے نام پیغام آیا کہ اپنے آدمی بھیج دیں تا کہ شرائط کا اُن کے ساتھ تصفیہ ہو جائے۔میں نے کہلا بھیجا کہ تصفیہ ان ان شرائط پر ہو گا اگر مان لو تو صلح ہوسکتی ہے ورنہ نہیں۔وہ کہنے لگے یہ شرائط تو بہت سخت ہیں اگر ان کو تسلیم کر لیا گیا تو ہماری قوم بگڑ جائے گی۔میں نے کہا یہ تمہاری مرضی ہے چاہو تو صلح کر لو اور چاہو تو نہ کرو۔در دصاحب اُس کے ساتھ گفتگو کر رہے تھے آخررات کے گیارہ بجے اُس نے کہہ دیا کہ ان شرائط پر صلح نہیں ہو سکتی۔مجھے در دصاحب نے یہ بات پہنچائی تو میں نے اُن سے کہا آپ سر ہری کشن کول سے جا کر کہہ دیں کہ اگر ان شرائط پر وہ صلح کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں تو پھر وہ بھی وزیر نہیں رہ سکتے۔درد صاحب نے یہ بات اُسے کہی تو وہ کہنے لگا میں تجربہ کار ہوں میں ایسے بلف (BLUFF) سے نہیں ڈرا کرتا۔میں نے درد صاحب سے کہا آپ اُن سے دریافت کریں اور پوچھیں کہ کرنل بکسر جموں گیا ہے یا نہیں ؟ اگر وہ جموں گیا ہے اور مہا راجہ صاحب سے ملا ہے تو آپ یہ بتائیں کہ کیا مہا راجہ صاحب نے آپ کو وہ باتیں بتائی ہیں؟ اگر نہیں بتا ئیں حالانکہ مہاراجہ آپ کو اپنا باپ کہا کرتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ آپ کو الگ کرنا چاہتا ہے چنانچہ میں آپ کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ آب آپ کا زمانہ گزر چکا ہے اب آپ وزیر اعظم نہیں رہ سکتے۔مہاراجہ صاحب نے فیصلہ کر دیا ہے کہ آپ کو الگ کر دیا جائے اور کالون صاحب کو وزیر اعظم بنا دیا جائے۔یہ سنتے ہی اُس کا رنگ فق ہو گیا اور کہنے لگا بات تو ٹھیک معلوم ہوتی ہے۔پھر اُسی وقت اُس نے اپنا موٹر تیار کیا اور در دصاحب سے کہا کہ آپ اُن سے اجازت لے کر آئیں اور میرے ساتھ چلیں جو شرائط بھی آپ لکھیں گے میں اُن پر دستخط کرنے کے لئے تیار ہوں۔اُنہوں نے کہا آب دستخط کرنے کا وقت نہیں رہا کل صبح تم پرائم منسٹر ہو گے ہی نہیں۔اُس کو ایسا فکر ہوا کہ وہ اُسی وقت