انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 595 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 595

انوار العلوم جلد ۷ ۵۹۵ الموعود دوسرے معنی اس کے یہ بھی تھے کہ سب سے پہلے مصلح موعود کا اعلان پیر منظور محمد صاحب کریں گے اور چونکہ اس لحاظ سے وہ اس خیال کو سب سے پہلے بحث میں لانے والے تھے اور تصنیف مصنف کی معنوی اولاد ہوتی ہے اس لئے پیشگوئی پر پردہ ڈالنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے یہ رنگ اختیار کیا اور بتایا کہ جماعت میں سب سے پہلے اس پیشگوئی کی حقیقت کی طرف پیر منظور محمد صاحب اشارہ کریں گے۔مخالفین کی ارادہ قتل میں نا کامی ۶ چینی شہر یہ دیکھی تھی کہ خدا کا سایہ اس کے سر پر ہوگا۔یعنی اللہ تعالیٰ اُس کا حافظ و ناصر ہوگا اور اُسے دشمنوں کے حملوں سے محفوظ رکھے گا۔اب دیکھو اللہ تعالیٰ نے کس طرح اس الہام کی صداقت میں متواتر میری حفاظت اور نصرت کی ہے۔مجھے اس وقت تک کوئی ایسا الہام نہیں ہوا جس کی بناء پر میں کہہ سکوں کہ میں انسانی ہاتھوں سے نہیں مروں گا لیکن بہر حال میں اس یقین پر قائم ہوں کہ جب تک میرا کام باقی ہے اُس وقت تک کوئی شخص مجھے مارنہیں سکتا۔میرے ساتھ متواتر ایسے واقعات گزرے ہیں کہ لوگوں نے مجھے ہلاک کرنا چاہا مگر اللہ تعالیٰ نے اپنے خاص فضل سے اُن کے حملوں سے مجھے محفوظ رکھا۔پہلا واقعہ ایک گزشتہ جلسے کا واقعہ ہے میں تقریر کر رہا تھا اور تقریر کرتے کرتے میری عادت ہے کہ میں گرم گرم چائے کے ایک دو گھونٹ پی لیا کرتا ہوں تا کہ گلا درست رہے کہ اسی دوران میں جلسہ گاہ میں سے کسی شخص نے ملائی کی ایک پیالی دی اور کہا کہ یہ جلدی حضرت صاحب تک پہنچا دیں کیونکہ حضور کو تقریر کرتے کرتے ضعف ہو رہا ہے چنانچہ ایک نے دوسرے کو اور دوسرے نے تیسرے کو اور تیسرے نے چوتھے کو وہ پیالی ہاتھوں ہاتھ پہنچانی شروع کر دی یہاں تک کہ ہوتے ہوتے وہ سٹیج پر پہنچ گئی۔سٹیج پر اتفاقا کسی شخص کو خیال آ گیا اور اُس نے احتیاط کے طور پر ذرا سی ملائی چکھی تو اُس کی زبان کٹ گئی۔تب معلوم ہوا کہ اس میں زہر ملی ہوئی ہے اب اگر وہ ملائی مجھ تک پہنچ جاتی اور میں خدانخواستہ اُسے چکھ لیتا تو اور کچھ اثر ہوتا یا نہ ہوتا اتنا ضرور ہوتا کہ تقریر رُک جاتی۔