انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 560 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 560

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۶۰ الموعود خدمت دین کے لئے عطا فرمائی۔اُن کے کان اتنے خراب تھے کہ آلہ لگا کر لوگوں کی باتیں سنتے تھے مگر خدا تعالیٰ نے بعد میں اپنے فضل سے اُن کی شنوائی کو درست کر دیا اور وہ بغیر آلہ کے ہی باتیں سننے لگ گئے۔یہ کتنی عظیم الشان خبر ہے کہ ایسی حالت میں جب کہ نہ انہیں احمدیت کا علم تھا نہ اُن کا علمی مذاق تھا خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر دی گئی اور پھر اس کے بعد آپ ہی آپ اُن کے دل میں القاء اور الہام ہوا اور اُنہوں نے سلسلہ کی تائید میں کتا میں لکھنی شروع کر دیں۔یہاں تک کہ اُن کی کتب اور اشتہارات وغیرہ کی اشاعت دس لاکھ تک پہنچ چکی ہے جو مختلف زبانوں میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔انگریزی میں بھی اور اُردو میں بھی اور گجراتی میں بھی۔اسی طرح اب تک وہ ایک لاکھ روپیہ انعام دینے کے اشتہارات شائع کر چکے ہیں بشرطیکہ مخالف اُن کی مقرر کردہ شرائط کے مطابق اختلافی مسائل کا تصفیہ کرنے پر آمادہ ہوں۔لوگ دس دس، بیس ہیں اور سو سو روپیہ کے لئے مارے مارے پھرتے ہیں مگر وہ ہزاروں روپے انعام دیتے ہیں اور کوئی شخص لینے کیلئے تیار نہیں ہوتا۔یہ کیسی زبر دست پیشگوئی ہے جو سیٹھ عبداللہ بھائی کے ذریعہ پوری ہوئی۔اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ تاجر قوم میں سے ، ایک ایسی قوم میں سے جو اردو بھی صحیح نہیں جانتی اور جس کی انگریزی تعلیم بھی بہت معمولی ہے، ایک شخص احمدیت میں داخل ہو گا وہ بظاہر علمی دنیا سے کوئی تعلق نہ رکھتا ہوگا مگر خدا اُسے قبول کرے گا اور آسمان سے نور کے بورے بھر بھر کر اُس پر برسائے گا۔چنانچہ پھر وہ شخص سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوتا ہے اور تبلیغ کا ایسا جنون اُس کے اندر پیدا ہو جاتا ہے کہ وہ دس لاکھ کتابیں اور اشہارات سلسلہ کی تائید کے لئے شائع کرتا اور علاوہ اور چندوں میں حصہ لینے کے یہ تمام اخراجات اپنی گرہ سے ادا کرتا ہے۔سر سکندر حیات خاں کے متعلق ایک رویا ) ( ۷ ) پھر دس بارہ سال کی بات ہے میں نے رویا میں دیکھا کہ سر سکندر حیات خاں کی طرف سے ایک آدمی آیا ہے جس نے ایسی وردی پہنی ہوئی ہے جیسے پنجاب گورنمنٹ کے وزراء کے اردلیوں کی ہوتی ہے اور اُس کے ہاتھ میں ایک لفافہ ہے جو تار کی شکل کا ہے مگر ہے خط۔وہ کہتا ہے کہ یہ چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے لئے ہے۔میں نے اُسے کہا کہ لاؤ یہ خط مجھے دے دو۔اُس نے مجھے دے دیا۔میں نے اُسے دیکھا تو اُس میں