انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 561 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 561

انوار العلوم جلد کا ۵۶۱ الموعود سر سکندر حیات خاں نے چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کو یہ لکھا تھا کہ میں کسی کام کے متعلق آپ سے مشورہ لینا چاہتا ہوں ، آپ مجھے ملیں۔اس خواب کا ایک حصہ تو اُسی وقت پورا ہو گیا کیونکہ سر سکندرحیات خاں جو اُس وقت بہاولپور میں وزیر تھے اُن کا چوہدری ظفر اللہ خاں صاحب کے نام تار آیا کہ میں بھو پال گورنمنٹ کے ایک کام کے لئے بمبئی جارہا ہوں اور آپ سے بھی مشورہ لینا چاہتا ہوں آپ مجھے ملیں۔لیکن اس خواب کا ایک دوسرا حصہ بھی تھا اور وہ یہ کہ وہ پنجاب گورنمنٹ میں وزارت کے عہدے پر پہنچیں گے کیونکہ میں نے اُن کے اردلی کو ایسی وردی پہنے دیکھا تھا جو پنجاب گورنمنٹ کے وزراء کے اردلیوں کی ہوتی ہے۔خواب کا یہ حصہ بعد میں اس طرح پورا ہوا کہ وہ پہلے ریونیو ممبر بنے اور پھر پنجاب گورنمنٹ کی وزارت عظمیٰ کے عہدہ پر فائز ہو گئے۔سر سکندر حیات خاں نے بے شک اپنی زندگی کامیاب طور پر بسر کی ہے مگر اُن کی پہلی زندگی ایسی کامیاب نہیں تھی۔جب سرمانٹیگو آئے تو اُس وقت میں بھی دہلی گیا۔سر سکندرحیات اُس وقت نوجوان تھے ۲۴، ۲۵ سال اُن کی عمر تھی اور وہ دہلی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔مجھے سے ملنے کیلئے آئے اور کہنے لگے کہ خان بہا در راجہ پائندہ خاں جنجوعہ کو آپ اجازت دیں کہ وہ زمینداروں کے اُس وفد میں شامل ہوں جو ہماری طرف سے سرمانٹیگو کے سامنے پیش ہونے والا ہے۔میں نے کہا یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ وہ ہماری طرف سے بھی ہوں اور آپ کی طرف سے بھی ممکن ہے آپ کے میمورنڈم میں کوئی ایسی باتیں ہوں جو ہمارے نزدیک درست نہ ہوں اور ہم اُن کے خلاف اپنے میمورنڈم میں اظہار خیالات کر چکے ہوں۔وہ کہنے لگے پھر کیا کیا جائے اُن کا شامل ہونا نہایت ضروری ہے۔میں نے کہا پھر ایک شرط ہے اپنا میمورنڈم لائے تا کہ میں اُسے دیکھ لوں۔اگر اس میں کوئی اختلافی بات ہوئی تو میں اُسے کاٹ دوں گا۔پھر بے شک وہ آپ کی طرف سے بھی پیش ہو سکتے ہیں۔اُنہوں نے یہ بات منظور کر لی۔وہ میمورنڈم لائے اور میں نے اُس میں سے پانچ سات غلطیاں نکالیں جن کو اُنہوں نے تسلیم کیا اور اُن کی اصلاح کی۔غرض اُس وقت اُن کی حیثیت بالکل طالب علمانہ تھی اور مجھ سے اس طرح مشورہ لیتے تھے جس طرح شاگرد اپنے اُستاد سے مشورہ لیتا ہے۔