انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 559 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 559

انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۵۹ الموعود اُن سوالات کے جواب لکھوائے اور ساتھ ہی دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اُن کو ہدایت عطا فرمائے۔رات کو میں نے رویا میں دیکھا کہ ایک میدان ہے جس میں ایک تخت بچھا ہوا ہے اور اس پر سیٹھ عبداللہ بھائی بیٹھے ہیں۔ساتھ ہی میں نے یہ نظارہ دیکھا کہ آسمان میں سے ایک کھڑ کی کھلی ہے اور اُس میں سے نور کے بورے بھر بھر کر فرشتے اُن پر ڈال رہے ہیں۔میں نے اُسی وقت اِس رؤیا کی اپنے دوستوں کو اطلاع دے دی۔چنانچہ چند دنوں کے بعد ہی اُنہوں نے بیعت کر لی۔یوں تو بیسیوں تاجر ہماری جماعت میں داخل ہوتے رہتے ہیں مگر یہ کبھی نہیں ہوا کہ مجھے اُن کے احمدیت میں داخل ہونے سے پہلی کوئی خواب آیا ہو۔لیکن سیٹھ عبد اللہ بھائی ابھی ہماری جماعت میں داخل بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے اُن کے متعلق رویا دکھایا کہ آسمان میں سے خدا کا نور اُن پر چاروں طرف سے برس رہا ہے جس کے معنی یہ تھے کہ اللہ تعالیٰ اُن سے خاص طور پر خدمت دین کا کام لے گا اور انہیں اسلام کا نور دنیا میں پھیلانے کی توفیق عطا کرے گا۔سیٹھ عبداللہ بھائی کی علمی قابلیت زیادہ اعلیٰ درجہ کی نہیں بلکہ اُن کی اُردو بھی درحقیقت ہمارے نقطہ نگاہ سے صحیح نہیں۔انگریزی میں بھی اُن کی تعلیم بہت معمولی ہے۔وہ ابھی چھوٹے بچے تھے کہ اُن کے والد فوت ہو گئے اور انہیں تعلیم کی بجائے تجارت کے کام کی طرف توجہ کرنی پڑی۔مگر با وجود اس کے کہ اُن کی تعلیم معمولی تھی ، اُن کی انگریزی تعلیم بھی زیادہ نہ تھی اور اُردو بھی زیادہ صحیح نہ لکھ سکتے تھے اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کو ایسی شان کے ساتھ پورا کیا کہ اسے دیکھ کر اُس کی قدرت اور طاقت کا نقشہ انسان کی آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔اس رویا کے بعد وہ احمدی ہوئے اور اُنہوں نے سلسلہ کی کتابیں پڑھیں اور پھر تبلیغ کی طرف ایسے جوش کے ساتھ متوجہ ہو گئے کہ اس وقت تک ڈیڑھ لاکھ روپیہ وہ سلسلہ کی کتابوں اور تبلیغی لٹریچر کی اشاعت وغیرہ پر خرچ کر چکے ہیں۔اب دیکھو ایک شخص ہماری جماعت میں داخل ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے دکھایا جاتا ہے کہ اُس پر آسمان سے خدا کا نور برس رہا ہے۔پھر اس رؤیا کے عین مطابق اللہ تعالیٰ اسے توفیق عطا فرماتا ہے کہ وہ روحانی علوم کو دنیا میں پھیلائے اور لوگوں کو احمدیت میں داخل کرے۔پھر باوجود اس کے کہ اُن کی صحت کمزور تھی ، خدا نے اُن کو لمبی زندگی