انوارالعلوم (جلد 17) — Page 510
انوار العلوم جلد ۱۷ ۵۱۰ الموعود کے بعد آئے گا تو اس فقرہ کی تشریح یوں ہوتی ہے کہ یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے تا کہ وہ لوگ جو آج زندگی کے خواہاں ہیں مرے رہیں چار سو سال کے بعد اُن کی نسلوں میں سے بعض لوگوں کو زندہ کر دیا جائے گا مگر کیا اس فقرہ کو کوئی شخص بھی صحیح تسلیم کر سکتا ہے۔دوسرے یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی تھی تا دینِ اسلام کا شرف ظاہر ہو اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر عیاں ہو۔اس فقرہ کے صاف طور پر یہ معنی ہیں کہ دین اسلام کا شرف اس وقت لوگوں پر ظاہر نہیں۔اسی طرح کلام اللہ کا مرتبہ اس وقت لوگوں پر ظاہر نہیں۔مگر کہا یہ جاتا ہے کہ خدا نے یہ پیشگوئی اس لئے کی ہے تا دینِ اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ آج سے تین سو سال کے بعد یا چار سو سال کے بعد جب یہ لوگ بھی مر جائیں گے، ان کی اولادیں بھی مر جائیں گی اور اُن کی اولادیں بھی مر جائیں گی ، لوگوں پر ظاہر کیا جائے۔جب نہ پنڈت لیکھرام ہوگا نہ منشی اندرمن مراد آبادی ہوگا نہ ان کی اولادیں ہوں گی اور نہ اُن اولادوں کی اولادیں ہوں گی۔اُس وقت دین اسلام کا شرف اور کلام اللہ کا مرتبہ لوگوں پر ظاہر کیا جائے گا۔بتاؤ کہ کیا کوئی بھی شخص ان معنوں کو درست سمجھ سکتا ہے؟ تیسرے آپ نے فرمایا یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے تا کہ حق اپنی تمام برکتوں کے ساتھ آ جائے اور باطل اپنی تمام نحوستوں کے ساتھ بھاگ جائے۔اس کے معنی بھی ظاہر ہیں کہ حق اس وقت کمزور ہے اور باطل غلبہ پر ہے اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ایسا نشان ظاہر ہو کہ عقلی اور علمی طور پر دشمنانِ اسلام پر حجت تمام ہو جائے اور وہ لوگ اس بات کو ماننے پر مجبور ہو جائیں کہ اسلام حق ہے اور اس کے مقابل میں جس قدر مذاہب کھڑے ہیں وہ باطل ہیں۔چوتھی غرض اس پیشگوئی کی یہ بیان کی گئی تھی کہ تا لوگ سمجھیں کہ میں قادر ہوں اور جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔اب یہ غور کرنے والی بات ہے کہ لوگ خدا تعالیٰ کو اس صورت میں کس طرح قادر سمجھ سکتے تھے اگر یہ کہہ دیا جاتا کہ تین سو سال کے بعد یا چار سو سال کے بعد ایک ایسا نشان ظاہر ہوگا جس سے تم یہ تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاؤ گے کہ اسلام کا خدا قادر ہے، ایسی پیشگوئی کو لیکھرام کیا اہمیت دے سکتا تھا یا وہ لوگ جو اُس وقت دین اسلام پر اعتراضات کر رہے تھے، رسول کریم ﷺ کے نشانات کو باطل قرار دے رہے تھے ، اسلام کو ایک مُردہ مذہب قرار دے صلى الله