انوارالعلوم (جلد 17) — Page 511
انوار العلوم جلد ۷ ۵۱۱ الموعود رہے تھے اُن پر کیا حجت ہو سکتی تھی کہ تم چار سو سال کے بعد خدا تعالیٰ کو قا در سمجھنے لگ جاؤ گے۔چار سو سال کے بعد پوری ہونے والی پیشگوئی سے وہ لوگ خدا تعالیٰ کو کس طرح قادر سمجھ سکتے تھے۔وہ تو یہی کہتے کہ ہم ان زبانی دعووں کو تسلیم نہیں کر سکتے کہ چار سو سال کے بعد ایسا ہو جائے گا۔یہ تو ہر کوئی کہہ سکتا ہے بات تب ہے کہ ہمارے سامنے نشان دکھایا جائے اور اسلام کے خدا کا قادر ہونا ثابت کیا جائے۔پانچویں غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ تا وہ یقین لائیں کہ میں تیرے ساتھ ہوں۔اگر اس پیشگوئی نے چار سو سال کے بعد ہی پورا ہونا تھا تو اُس زمانہ کے لوگ یہ کس طرح یقین کر سکتے تھے کہ خدا تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ ہے۔چھٹی غرض یہ بیان کی گئی تھی کہ تا انہیں جو خدا کے وجود پر ایمان نہیں لاتے اور خدا اور اُس کے دین اور اُس کی کتاب اور اُس کے پاک رسول محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو انکار اور تکذیب کی نگاہ سے دیکھتے ہیں ایک کھلی نشانی ملے۔اس کے معنی بھی یہی بنتے ہیں کہ وہ لوگ جو میرے زمانہ میں اسلام کی تکذیب کر رہے ہیں ، اُن کے سامنے میں یہ پیشگوئی کرتا ہوں کہ اُنہیں اسلام کی صداقت کی ایک بڑی کھلی نشانی ملے گی مگر ملے گی چار سو سال کے بعد۔جب موجودہ زمانہ کے لوگوں بلکہ ان کی اولادوں اور اُن کی اولادوں میں سے بھی کوئی زندہ نہیں ہوگا۔ساتو میں آپ نے بیان فرمایا کہ یہ پیشگوئی اس لئے کی گئی ہے تاکہ مجرموں کی راہ ظاہر ہو جائے اور پتہ لگ جائے کہ وہ جھوٹے ہیں۔چار سو سال کے بعد آنے والے وجود سے اس زمانہ کے لوگوں کو کیونکر پتہ لگ سکتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہے تھے۔پھر اشتہارات میں آپ نے یہ بھی تحریر فرما دیا تھا کہ ایسا لڑکا بموجب نو سالہ میعاد البسام النبی 9 سال کے عرصہ میں ضرور پیدا ہو جائے گا۔اس سے صاف ظاہر ہے کہ الہام الہی اس کی پیدائش کو ۹ سال میں ضروری قرار دیتا ہے۔یہاں اجتہاد کا کوئی سوال نہیں بلکہ آپ فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ کا یہ الہام ہے کہ وہ لڑکا 9 سال کے اندر ضرور پیدا ہو جائے گا۔پس تین یا چار سو سال کے بعد اگر کوئی شخص اس پیشگوئی کے مصداق ہونے کا دعوی کرے تو بہر حال ایسا شخص ہی اس کے مصداق ہونے کا اعلان کر سکتا ہے جو پیدا 9 سال میں ہوا ہولیکن