انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 506 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 506

انوار العلوم جلد کا الموعود سلسلہ میں آپ نے تحریر فرمایا۔اگر ہم اس خیال کی بناء پر کہ الہامی طور پر ذاتی بزرگیاں پسر متوفی کی ظاہر ہوئی ہیں اور اس کا نام مبشر اور بشیر اور نور اللہ اور صیب اور چراغ دین وغیر ہ اسماء مشتمل کاملیت ذاتی اور روشنی فطرت کے رکھے گئے ہیں کوئی مفصل و مبسوط اشتہار بھی شائع کرتے اور اس میں بحوالہ اُن ناموں کے اپنی یہ رائے لکھتے کہ شاید مصلح موعود اور عمر پانے والا یہی لڑکا ہو گا تب بھی صاحبانِ بصیرت کی نظر میں یہ اجتہادی بیان ہمارا قابل اعتراض نہ ٹھہرتا کیونکہ اُن کا منصفانہ خیال اور ان کی عارفانہ نگاہ فی الفور انہیں سمجھا دیتی کہ یہ اجتہاد صرف چند ایسے ناموں کی صورت پر نظر کر کے کیا گیا ہے جو فِي حَدِ ذَاتِہ صاف اور گھلے گھلے نہیں ہیں بلکہ ذوالوجوہ اور تاویل طلب ہیں۔“ کلے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بتایا کہ بیشک مبشر اور بشیر اور نور اللہ اور صیب اور چراغ دین وغیرہ اسماء متوفی لڑکے کے رکھے گئے تھے مگر یہ سب کی سب اس کی صفات ذاتیہ تھیں۔اس کے عمر پانے کی کوئی شرط الہام میں مذکور نہیں تھی بلکہ ۲۰ فروری ۱۸۸۶ء کی پیشگوئی میں ہی یہ لکھا ہوا تھا کہ:۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے“ اور مہمان وہی ہوتا ہے جس کا قیام عارضی اور چند روزہ ہو۔ہاں اُس کی ذاتی فضیلت کے متعلق جو الہامات تھے اور جن میں اُسے مبشر اور بشیر اور نور اللہ اور صیب اور چراغ دین وغیرہ قرار دیا گیا تھا اُن سے صرف اتنا پتہ لگتا تھا کہ وہ استعداد ذاتی میں اعلیٰ درجہ کا ہوگا یہ پتہ نہیں لگتا تھا کہ وہ زندہ بھی رہے گا اور لمبی عمر پائے گا۔آپ نے فرمایا یہ بات ایسی ہی ہے جیسے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صاحبزادہ ابراہیم کی وفات پر فرمایا لَو عَاشَ إِبْرَاهِيمُ لَكَانَ صِدِّيقاً نَبيَّاً - ١٨ اگر ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی بن جاتا۔اب یہ ظاہر ہے کہ رسول کریم ﷺ اپنے پاس سے ابراہیم کو نبوت کا مقام نہیں دے سکتے تھے کیونکہ نبی خدا بناتا ہے انسان نہیں بنا تا اور جبکہ آپ اسے اپنی طرف سے نبوت کا مقام نہیں دے سکتے تھے تو آپ کا یہ فرمانا کہ اگر ابراہیم زندہ