انوارالعلوم (جلد 17) — Page 505
انوار العلوم جلد ۷ بات معلوم ہوئی کہ اس کے دو حصے ہیں۔پہلا حصہ پیشگوئی کا یہ ہے کہ :۔الموعود سو تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا ایک زکی غلام (لڑکا) تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ذریت ونسل ہو گا۔خوبصورت پاک لڑکا تمہارا مہمان آتا ہے۔اس کا نام عنمو ائیل اور بشیر بھی ہے۔اس کو مقدس روح دی گئی ہے اور وہ رجس سے پاک ہے اور وہ نور اللہ ہے۔مبارک وہ جو آسمان سے آتا ہے۔“ پیشگوئی کے اس حصہ کے متعلق خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بتایا کہ یہ پہلے بشیر کے متعلق ہے۔دوسرا حصہ پیشگوئی کا وہ ہے جو مصلح موعود کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور وہ حصہ ان الفاظ سے شروع ہوتا ہے کہ اس کے ساتھ فضل ہے۔جو اُس کے آنے کے ساتھ آئے گا‘اور گــــان أَمْراً مَّقْضِيًّا، تک جاتا ہے۔پھر آپ نے اسی اشتہار میں جو یکم دسمبر ۱۸۸۸ء کو آپ نے شائع فرمایا یہ بھی تحریر فرمایا کہ ہم نے اپنے کسی اشتہار میں یہ نہیں لکھا کہ بشیر اول ہی مصلح موعود ہے۔چنانچہ میں نے تمام حوالجات سنا دیئے ہیں۔ان میں اشارہ بھی یہ ذکر نہیں آتا کہ بشیر اول ہی مصلح موعود ہے۔صرف ایک جگہ آپ نے یہ لکھا ہے کہ:۔غالبا ایک لڑکا ابھی ہونے والا ہے یا با لضرور اس کے قریب حمل میں لیکن وہاں آپ نے صراحنا تحریر فرما دیا تھا کہ مجھ پر : یہ ظاہر نہیں کیا گیا کہ جو اب پیدا ہوگا یہ وہی لڑکا ہے یا وہ کسی اور وقت میں 66 ۹ برس کے عرصہ میں پیدا ہو گا۔“ ہاں آپ لکھتے ہیں کہ بوجہ بشیر اول کے اُن ذاتی کمالات کے جو الہامات میں بیان ہوئے تھے یہ شبہ پیدا ہوتا تھا کہ شاید یہی وہ لڑکا ہومگر اِس کے باوجود اس رائے کو ظاہر نہیں کیا گیا کہ ضرور یہ لڑ کا پختہ عمر کو پہنچے گا کیونکہ وہ استعدادی کمالات جو بشیر اوّل کے بیان کئے گئے تھے ایسے نہیں تھے جن کے لئے بڑی عمر پانا ضروری ہوتا بلکہ وہ ذ والوجوہ اور تاویل طلب تھے۔اسی