انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 438

بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ء) انوار العلوم جلد ۷ - ۴۳۸ لیکن اگر وہ گندا نہ ہوتا تو قرآن کریم بھی نہ ہوتا۔ابوبکر جیسوں کے لئے تو صرف بسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرّحیم ہی کافی تھا۔اتنا قرآن کریم تو مختلف مدارج رکھنے والے، طرح طرح کی تاریکیوں اور ظلمتوں میں پڑے ہوئے اور جہالتوں میں مبتلا لوگوں کے لئے ہی نازل ہوا اور نہ مومن کے لئے تو بسم الله الرحمن الرحیم ہی کافی تھا۔تو اس قسم کی مخالفتیں بہت فائدہ کا موجب ہوئی ہیں اور ضروری ہیں ان سے گھبرا نا مومن کی شان کے خلاف بات ہے۔بلکہ ہمیں تو اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور دعا کرنی چاہئے کہ وہ خود کوئی نشان دکھائے۔ان گالیوں کو سننا اور ان تکالیف کو برداشت کرنا چاہئے ان پر بگڑنے کی کوئی وجہ نہیں۔زیادہ سے زیادہ یہی خطرہ ہوسکتا ہے کہ کوئی کمزور اس سے گمراہ نہ ہو جائے لیکن جو شخص ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے گمراہ ہوسکتا ہے وہ ہمارے اندر رہ کر بھی کیا فائدہ دے سکتا ہے۔ایمان تو ایسی چیز ہے کہ اس راہ میں قدم مارنے والوں کو جان ہتھیلی پر لے کر چلنا پڑتا ہے۔صرف کثرت کوئی خوبی کی بات نہیں ہم کتنے تھوڑے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے فضل سے کس قدرقربانی ہم کر رہے ہیں اور کتنی خدمت اسلام کی بجالا رہے ہیں۔چالیس کروڑ مسلمان مل کر بھی اسلام کے لئے وہ قربانی نہیں کر سکتے جتنی کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہم چار پانچ لاکھ کر رہے ہیں۔اور اس لحاظ سے ایک احمدی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک ہزار مسلمانوں کے برابر ہے۔ہزار مسلمان مل کر اتنی قربانی نہیں کرتے جتنی کہ ایک احمدی کرتا ہے۔مسٹر جناح نے مسلم لیگ کے لئے سات کروڑ مسلمانوں سے دس لاکھ روپیہ چندہ طلب کیا تھا اور مسلمانوں میں ایسے ایسے لوگ ہیں کہ ایک ایک کروڑ کروڑ روپیہ دے سکتا ہے۔مگر سال چھ ماہ کے بعد جب آمد دیکھی گئی تو صرف تین لاکھ روپیہ جمع ہوا تھا۔اس کے بالمقابل ہماری جماعت جو بالعموم غریبوں کی جماعت ہے اس میں کس طرح ہر تحریک محض خدا تعالیٰ کے فضل سے کامیاب ہو رہی ہے اور ہماری جماعت میں ایسے ایسے مخلص لوگ ہیں کہ جو خود فاقے کرتے ہیں، اپنے بیوی بچوں کو فاقے کراتے ہیں مگر خدا تعالیٰ کے خزانہ میں چندہ لا کر دے دیتے ہیں یہ چیز ایمان سے پیدا ہوتی ہے۔پس ہم