انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 439 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 439

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۳۹ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) بھی اگر چار پانچ نہیں چالیس لاکھ ہو جائیں مگر ویسے ہی سست ہوں جیسے دوسرے مسلمان تو اس کثرت کا ہمیں کیا فائدہ ہو سکتا ہے۔پس یہ گالیاں اور یہ تکالیف ہمیں کھرا کرنے کے لئے ہیں۔ان سے کھوٹا کھرا الگ الگ ہو جائیں گے۔اگر مخالفوں کی مخالفت کے نتیجہ میں کوئی دھوکا کھاتا اور ہم سے الگ ہوتا ہے تو ہمیں ان کا شکریہ ادا کرنا چاہئے آخر ہمیں خود بھی تو بعض کو نکالنا پڑتا ہی ہے۔مصری صاحب اور ان کے ساتھیوں کو میں نے خود ہی نکال دیا تھا۔پس اگر کوئی خود دھوکا کھا کر الگ ہوتا ہے تو یہ تو ہمارے لئے اچھا ہوا کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں اُسے الگ کرنے کی مصیبت سے بچا لیا اور جو گندا تھا وہ خود بخود نکل گیا۔کسی انسان کے جسم پر کوئی پھوڑا نکلے تو کیا وہ خود پسند کرتا ہے کہ خود بخود پھوٹ کر بہہ جائے ؟ یا ڈاکٹر کے چاقو سے اُس کا چیرا جانا پسند کرتا ہے؟ ہر عقلمند اس بات کو پسند کرتا ہے کہ پھوڑا خود بخود پھوٹ جائے اسی طرح اگر کوئی گندا آدمی ہم میں سے خود بخو دا لگ ہوتا ہے تو اسے اللہ تعالیٰ کا فضل سمجھنا چاہئے اور اُس کا شکر ادا کرنا چاہئے کہ اُس نے ہمیں اپنے ساتھی کو خو دا لگ کرنے کے الزام سے بچا لیا۔ایک اور بات جس کے متعلق میں کچھ کہنا چاہتا ہوں یہ ہے کہ مولوی محمد علی صاحب کا ایک چیلنج مجھے دیا گیا ہے کہ جو اُن کی طرف سے جلسہ کے موقع پر تقسیم کیا گیا ہے انہوں نے لکھا ہے کہ وہ مجھے بار بار مقابلہ کے لئے بلاتے ہیں مگر میں سامنے نہیں آتا۔اس موقع پر جبکہ یہاں پر بہت سے غیر مسلم، ہندو، سکھ اور غیر احمدی معززین بھی جمع ہیں میں اس امر کی وضاحت کرنا چاہتا ہوں کہ ان میں سے اگر کسی کو خدا تعالیٰ توفیق دے تو وہ اس معاملہ میں دخل دے کر اس عقدہ کو حل کرا دیں۔میں شروع سے ہی ان کو توجہ دلاتا رہا ہوں کہ ان امور کے بارے میں جن کے متعلق ہمارے مابین اختلاف ہے وہ میرے ساتھ فیصلہ کر لیں۔مگر وہ ہر بار کوئی نہ کوئی ایسی شرط پیش کر دیتے ہیں کہ جسے ماننے کے لئے میں ہر گز تیار نہیں ہوسکتا۔مثلاً وہ کہتے ہیں کہ مذہبی امور کا فیصلہ کرنے کے لئے کوئی حج ہو اور یہ ایک ایسی شرط ہے جسے میں نہیں مان سکتا۔میں کبھی یہ بات نہیں مان سکتا کہ مذہب کسی کی خاطر بدلا جا سکتا ہے۔اگر مذہب کے بارہ میں کسی کی رائے