انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 437 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 437

انوار العلوم جلد ۷ ۴۳۷ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) خدا تعالیٰ کو حاصل کیا۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ دعا سکھائی ہے۔جسکے معنی یہ ہیں کہ ہم کو اُس رستہ پر چلا جو سیدھا اور تیرے نبیوں کا رستہ ہے آگے فرمایا صِرَاطَ الَّذينَ اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالین کے گویا مومن کہتا ہے کہ میں جانتا ہوں اس رستہ میں خطرات بھی ہوتے ہیں مگر میں ان خطرات سے نہیں گھبرا تا بلکہ ان کو برا دشت کرنے لئے تیار ہوں۔میں تو منعم علیہ گروہ میں شامل ہونا چاہتا ہوں اِن تکالیف سے نہیں گھبرا تا جو تیرے بندوں کو پہنچتی رہی ہیں۔اس تازہ انکشاف کے بعد جو مصلح موعود کی پیشگوئی کے بارہ میں اللہ تعالیٰ نے مجھ پر کیا ہے لازمی طور کچھ عرصہ کے لئے مخالفت کا بڑھ جانا ضروری ہے بلکہ اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس انکشاف کے بعد میں روزانہ دشمن کی طرف سے بیداری کا منتظر رہتا تھا اور اگر دشمن کی طرف سے مخالفت نہ ہوتی تو میرے دل میں پوری طرح تسلی نہ ہوتی۔اللہ تعالیٰ کے رستہ میں اس قسم کی باتوں کا پیدا ہونا انسان کے لئے بھی اور خدا تعالیٰ کی شان کے اظہار کے لئے بھی ضروری ہے۔اگر ہم آرام کے ساتھ اپنا کام کرتے جائیں اور دشمن کوئی مخالفت نہ کرے تو خدا تعالیٰ کی قدرت کا ہاتھ کہاں نظر آئے۔خدا تعالیٰ اِس طرح اپنا ہاتھ دکھانا اور اپنے آپ کو روشناس کرانا چاہتا ہے اور خطرات پیدا کر کے اپنی طاقت کو ظاہر کرنا چاہتا ہے۔جب تک تکالیف پیش نہ آئیں خدا تعالیٰ کی قدرت ظاہر نہیں ہوتی۔پس مخالفت کا جو نیا دور احراریوں کی طرف سے شروع ہوا ہے یا قادیان کے مخالفین نے جو مخالفت از سر نو شروع کی ہے یہ اس بات کی علامت ہے کہ خدا تعالیٰ پھر اپنی قدرت کا ہاتھ دکھانا چاہتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ اس سے اچھی بات ہمارے لئے اور کیا ہوسکتی ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدرت ظاہر کرے اور نشان دکھائے۔اُس کی قدرت مخالفت کے زمانہ میں ہی ظاہر ہوتی ہے۔میں نے حضرت مسیح موعود سے بارہا سنا ہے آپ فرمایا کرتے تھے کہ ابو جہل کو بہت گندا تھا