انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 433 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 433

انوار العلوم جلد ۷ ۴۳۳ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) زندہ خدا ہمیشہ ان کا وارث ہوتا ہے۔خدا تعالیٰ ہمیشہ زندہ ہے اور اُس پر موت کبھی وارد نہیں ہو سکتی مگر اُس کا سلوک اپنے بندوں سے یہی ہے کہ کوئی بندہ اُسے جیسا سمجھتا ہے وہ اُس کے لئے ویسا ہی ہو جاتا ہے۔حضرت خلیفۃ اصبح الاول سنایا کرتے تھے کہ اُن کے ایک اُستاد بھوپال میں تھے انہوں نے رویا میں خدا تعالیٰ کو کوڑھی کی شکل میں دیکھا جو چلنے پھرنے سے معذور تھا، تمام جسم پر مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں اور وہ شہر سے باہر ایک پل پر پڑا تھا۔اُنہوں نے اُسے دیکھا اور کہا خدایا ! میں تو تیری تعریفیں قرآن وحدیث میں پڑھ کر تجھے کچھ اور ہی سمجھتا تھا۔میں تو سمجھتا تھا کہ تو سارے دکھوں کا دور کرنے والا اور سب خوبیوں سے متصف ہے مگر تو تو خود بیماریوں سے سٹر رہا ہے اور بیکسی کی حالت میں پڑا ہے۔یہ سُن کر اُس نے اُن سے کہا کہ جو تو سمجھتا ہے وہ بھی ٹھیک ہے اور جو تو دیکھتا ہے وہ بھی ٹھیک ہے۔قرآن کریم کا خدا ویسا ہی ہے جیسے تو نے پڑھا مگر جسے تو یہاں پڑا دیکھتا ہے یہ بھوپال کا خدا ہے۔تو انسان جہاں خدا تعالیٰ کی حکومت کے تابع ہے، جہاں خدا تعالیٰ نے اُسے پیدا کیا اور اُس کی تمام ضروریات مہیا کرتا ہے وہاں یہ بھی سچ ہے کہ انسان اپنے لئے خدا کو خود پیدا کرتا ہے اور اُسے صفات بخشتا ہے۔یعنی جیسا اُس کا یقین خدا تعالیٰ کے متعلق ہوتا ہے ویسا ہی خدا تعالیٰ اُس سے معاملہ کرتا ہے۔اگر انسان خدا تعالیٰ کو ایک بے کار محض وجود سمجھتا ہے تو اُس کے معاملات میں خدا تعالیٰ بھی بے کار محض ہو جاتا ہے، جو انسان اُس کی قدرتوں کا انکار کرتا ہے خدا تعالیٰ اُس کے لئے اپنی قدرتیں کبھی نہیں دیکھا تا لیکن جو انسان خدا تعالیٰ کو قا در یقین کرتا ہے خدا تعالیٰ اُس کے لئے اپنی قدرتیں دکھاتا ہے، جو اُ سے زندہ خدا یقین کرتا ہے خدا بھی اُس کے لئے زندگی کا ثبوت مہیا کرتا ہے، جو اُ سے رب العلمین سمجھتا ہے خدا اُس کا مربی اور نگران بن جاتا ہے اور جو خدا کو رحمن مانتا ہے وہ بھی اُس پر رحمانیت کی بارشیں برساتا ہے۔اگر انسان خدا کو رحیم مانتا ہے تو وہ بھی رحیم بن کر اُس پر ظاہر ہوتا ہے۔پس جہاں تک خدا تعالیٰ کا تعلق ہے مومن کے لئے زندہ خدا کے بعد اور کسی چیز کی ضرورت