انوارالعلوم (جلد 17) — Page 434
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۳۴ بعض اہم اور ضروری امور ( ۱۹۴۴ ء ) نہیں مگر دیرینہ تعلقات اور محبتیں اپنا اثر چھوڑ جاتی ہیں اور انسان جسے اللہ تعالیٰ نے روح کے با وجود جسم بھی عطا فرمایا ہے بسا اوقات اُس کی روح تندرست ہوتی ہے مگر اُس کا جسم زخمی ہوتا اور تکلیف محسوس کرتا ہے۔حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے متعلق آتا ہے کہ جو دن اُن کو صلیب دیئے جانے کے لئے مقرر تھا اُس رات اُنہوں نے دعا مانگی کہ:۔”اے میرے باپ! اگر ہو سکے تو یہ پیالہ مجھ سے مل جائے۔تاہم جیسا میں چاہتا ہوں ویسا نہیں بلکہ جیسا تو چاہتا ہے ویسا ہو“ لے پس ہمارے دل تو راضی ہیں مگر نفس بوجھ محسوس کرتے ہیں اور ہم اپنے خدا سے یہی کہتے ہیں کہ تیری ہی مرضی ہو کہ ہمارے لئے اسی میں برکت ہے۔خدا تعالیٰ کا مومن بندہ اسی قسم کی کیفیات کے ساتھ اُس کے حضور کھڑا ہوتا ہے۔انسان ہونے کے لحاظ سے ہم زخموں کا انکار نہیں کر سکتے ، بہتے ہوئے خون کو بند نہیں کر سکتے مگر خدا تعالیٰ کے فضلوں پر یقین رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ بات جسے ہم تکلیف سمجھتے ہیں اسے وہ ہمارے لئے اور ہمارے دوستوں کے لئے برکت کا موجب بنا دے گا۔اللہ تعالیٰ نے ہر دُکھ کے نیچے اپنے فضلوں کے خزانے مخفی رکھے ہیں جس طرح دنیوی خزانے بڑی بڑی چٹانوں کے نیچے مخفی ہوتے ہیں۔بے شک غموں کا اُٹھانا اور دکھوں کا برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے مگر جس طرح چٹانوں کو اُٹھائے بغیر قیمتی خزائن بھی حاصل نہیں کئے جا سکتے ان دُکھوں کو اُٹھائے بغیر اللہ تعالیٰ کی برکات حاصل نہیں ہوسکتیں۔پس ہم خوش ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی مرضی پوری ہوئی اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اسی میں ہماری بہتری ہوگی۔ہم اُس کے بندے ہیں اور اُس کی بادشاہی کی طرف با وجود اپنی کمزوریوں اور اپنے نقائص کے کوئی بدی منسوب نہیں کر سکتے اور یقین رکھتے ہیں کہ ہما را مہربان آقا جو کرتا ہے ہماری بہتری اور بھلائی کے لئے کرتا ہے اور دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اپنی حکمتوں اور رحمتوں کو سمجھنے کی توفیق دے اور اگر ہم ان کے سمجھنے میں کوتاہی کریں تو ہماری کوتاہیوں کو معاف فرمائے