انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 432 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 432

انوار العلوم جلد ۷ ۴۳۲ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) بِسْمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ بعض اہم اور ضروری امور ( تقریر فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۴۴ء بر موقع جلسہ سالانہ بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:- سب سے پہلے میں اُن دو نقصانات بے شک ہمیں بہت بڑا صدمہ پہنچا ہے کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو اس سال مگر ہم اپنے خدا کی رضا پر راضی ہیں سلسلہ احمدیہ کو پہنے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ میری ذات کو پہنچے ہیں۔اور اس کے فضلوں پر یقین رکھتے ہیں یعنی ایک اہم طاہر مرحومہ کی وفات اور ایک میر محمد اسحق صاحب کی وفات۔جہاں تک آپس کی نسبت کا سوال ہے نہ صرف دونوں میرے عزیز تھے اور اس طرح آپس میں بھی عزیز تھے بلکہ ان دونوں میں ایک صفت مشترک بھی پائی جاتی تھی اور وہ یہ کہ دونوں غرباء کا بہت خیال رکھتے تھے۔میر صاحب جب فوت ہوئے تو ان کو دفن کرنے کے بعد جب میں واپس آ رہا تھا تو میں نے سنا کہ ایک شخص کہہ رہا تھا کہ ابھی چند روز ہوئے عورتیں یتیم ہو گئی تھیں اور آج ہم مرد بھی یتیم ہو گئے۔یہ ایک جذباتی بات ہے دور نہ حقیقت یہ ہے کہ خدائی جماعتیں کبھی یتیم نہیں ہوتیں۔مومن کا خدا ایسا ہے کہ اس پر کسی انسان کے پیدا ہونے یا مرنے سے کوئی اثر نہیں ہوتا۔دنیا آتی بھی ہے اور جاتی بھی ہے ، لوگ پیدا بھی ہوتے ہیں اور مرتے بھی ہیں مگر خدا تعالیٰ کی با دشاہت چلتی ہی چلی جاتی ہے اور جو لوگ خود اپنے لئے خدا تعالیٰ کی ذات کو مارنہیں لیتے ان کا