انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 426 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 426

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۲۶ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات تیسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ ہر ایک عورت کو نماز کا ترجمہ یاد ہو جائے تا کہ اُن کی نماز طوطے کی طرح نہ ہو کہ وہ نماز پڑھ رہی ہوں مگر اُن کو یہ علم ہی نہ ہو کہ وہ نماز میں کیا کہہ رہی ہیں اور آخری اور اصل قدم یہ ہونا چاہئے کہ تمام عورتوں کو با ترجمہ قرآنِ مجید آ جائے اور چند سالوں کے بعد ہماری جماعت میں سے کوئی عورت ایسی نہ نکلے جو قرآن مجید کا ترجمہ نہ جانتی ہو۔اس وقت شاید ہزار میں سے ایک عورت بھی نہیں ہوگی جس کو قرآن مجید کا ترجمہ آتا ہو۔میری حیثیت اُستاد کی ہے اس لئے کوئی حرج نہیں اگر میں تم سے یہ پوچھ لوں کہ جو عورتیں قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہو جائیں اور جن کو ترجمہ نہیں آتا وہ بیٹھی رہیں۔میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ تم میں سے کتنی عورتیں ایسی ہیں جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہیں اس لئے جو ترجمہ جانتی ہیں وہ کھڑی ہو جائیں۔(حضور کے ارشاد پر بہت سی عورتیں کھڑی ہو گئیں جن کو دیکھ کر حضور نے فرمایا ) بہت خوشکن بات ہے کہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ عورتیں کھڑی ہیں۔اَلْحَمْدُ لِلهِ۔اب بیٹھ جاؤ۔میرے لئے یہ خوشی عید کی خوشی سے بھی زیادہ ہے۔میرا اندازہ تھا کہ جتنی عورتیں کھڑی ہوئی ہیں اس کے دسویں حصہ سے بھی کم عورتیں ہوں گی جو قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہوں مگر خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ میرے اندازہ سے بہت زیادہ عورتیں کھڑی ہوئی ہیں مگر میرے لئے یہ تسلی کا موجب نہیں۔میرے لئے تسلی کا موجب تو یہ بات ہو گی جب تم میں سے ہر ایک عورت قرآن مجید کا ترجمہ جانتی ہوگی اور مجھے خوشی اُس وقت ہو گی جب تم میں سے ہر ایک عورت صرف ترجمہ ہی نہیں جانتی ہو بلکہ قرآن مجید کو بجھتی بھی ہو۔اور مجھے حقیقی خوشی اُس وقت ہوگی جب تم میں سے ہر ایک عورت دوسروں کو قرآن مجید سمجھا سکتی ہو اور پھر اس سے بھی زیادہ خوشی کا دن تو وہ ہوگا جس دن خدا تعالیٰ تمہارے متعلق یہ گواہی دے گا کہ تم نے قرآن مجید کو سمجھ لیا ہے اور اس پر عمل بھی کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں اس تقریر سے میری جو غرض تھی وہ پوری ہو چکی ہے پرسوں سے نزلہ میرے گلے میں گر رہا ہے جس کی وجہ سے آواز بیٹھی جا رہی ہے۔ابھی میں نے