انوارالعلوم (جلد 17) — Page 425
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۲۵ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات چاہئے کہ اس موقع ( جلسہ سالانہ ) پر جو عورتیں باہر سے آئی ہوئی ہیں اُن سے مل کر مشورہ کرے کہ وہ اجتماع کس موقع پر رکھا جائے۔اگر وہ اجتماع مجلس شورای کے موقع پر رکھ لیا جائے اور تمام لجنات کی مختلف کاموں کی سیکرٹریوں کو اُس موقع پر بلا لیا جائے تو شاید میں بھی اُس موقع پر وقت نکال کر انہیں ہدایات دے سکوں کہ وہ کس طرح اپنے کام کو منظم بناسکتی ہیں۔جب وہ منظم ہو جائیں گی تو پھر اُن کی اصلاح کے لئے اگلا قدم یہ اُٹھایا جائے گا کہ ہر ایک عورت اپنی مروجہ زبان میں لکھنا پڑھنا سیکھ لے۔در حقیقت جس قوم کو اپنی زبان میں لکھنا اور پڑھنا آ جائے اُس کیلئے باقی سارے علوم حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔جس کو ہم منطق یا لاجک (LOGIC) کہتے ہیں یہ وہی چیز ہے جو ہر مرد اور ہر عورت روزمرہ کی بول چال میں استعمال کرتے ہیں۔جب تم کسی کی بیوقوفی پر ہنستی ہو تو اس کی یہی وجہ ہوتی ہے اور دوسرے لفظوں میں اس کے یہی معنی ہوتے ہیں کہ تم اُس کی بات کو غیر منطقی یا ان لاجیکل (UN-LOGICAL) سمجھتی ہو۔جب تم کسی بات پر کہتی ہو کہ یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی یا یہ بات خلاف عقل ہے تو اسی کا نام غیر منطقی یا آن لاجیکل رکھ کر تمہیں ڈرایا جاتا ہے۔ور نہ وہ کوئی اور علم نہیں جو مردوں کو آتا ہے اور تمہیں نہیں آتا بلکہ یہ وہی چیز ہے جو تم روز مرہ کی بول چال میں استعمال کرتی ہو۔اسی قسم کی ہزار ہا باتیں ہیں جن کا نام تم غیر زبان میں سُن کر حیران اور مرعوب ہو جاتی ہو ورنہ وہ کوئی اور چیز نہیں ہوتی وہی چیز ہوتی ہے جو تمہاری عام بول چال میں پائی جاتی ہے۔پس اگر تم اپنی اُردو زبان میں لکھنا اور پڑھنا سیکھ لو تو اُن تمام باتوں کو تم آسانی سے سمجھ سکتی ہو اور ہر علم سے فائدہ اُٹھا سکتی ہو اور آج جن علوم کے بڑے بڑے نام رکھ کر تمہیں مرعوب کیا جاتا ہے اُردو جان لینے پر ان تمام باتوں کا سمجھنا تمہارے لئے بالکل معمولی معلوم ہوگا۔پس لجنہ اماءاللہ کا پہلا قدم یہ ہونا چاہئے کہ جب اُن کی تنظیم ہو جائے تو جماعت کی تمام عورتوں کو لکھنا اور پڑھنا سکھا دے پھر دوسرا قدم یہ ہونا چاہئے کہ نماز ، روزہ اور شریعت کے دوسرے موٹے موٹے احکام کے متعلق آسان اُردو زبان میں مسائل لکھ کر تمام عورتوں کو سکھا دیئے جائیں اور پھر