انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 427 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 427

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۲۷ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات باہر جا کر مردوں میں لمبی تقریر کرنی ہے جو یہاں بھی آپ سُن لیں گی اِس لئے اب میں اسی پر بس کرتا ہوں اور جو باتیں میں نے بیان کی ہیں انہیں پھر دُہرا دیتا ہوں کہ : (۱) آپ میں سے ہر خاتون یہاں سے اس ارادہ کے ساتھ اپنے وطن واپس جائے کہ جاتے ہی اپنے ہاں لجنہ قائم کرے گی۔(۲) اور لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ایک ماہ کے اندر اندر منظم ہو جائے اور ایسی کوشش اور محنت کے ساتھ کام کرے کہ اس سال کم از کم تمام عورتوں کی تنظیم ہو جائے اور تمام ممالک میں بالخصوص ہندوستان میں ہر گاؤں، ہر قصبہ اور ہر شہر میں لجنہ اماءاللہ قائم ہو جائے۔اس کے بعد میں یہ اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ گزشتہ دنوں میں نے جو قرآنِ مجید کے سات زبانوں میں تراجم کی تحریک کی تھی اُس میں سے ایک زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ اور اُس کی اشاعت کا خرچ اور کسی ایک اسلامی کتاب کا ایک زبان میں ترجمہ اور اُس کی اشاعت کا خرچ یعنی اُٹھائیس ہزار روپیہ میں نے عورتوں کے ذمہ لگایا تھا اور میں نے کہا تھا کہ جرمن زبان میں قرآن مجید کا ترجمہ کرانے اور جرمن زبان میں اِس کے چھپوانے کا خرچ اور جرمنی زبان میں کسی ایک اسلامی کتاب کا ترجمہ کرانے اور جرمن زبان میں اُس کے چھپوانے کا خرچ جس کے لئے اُٹھائیس ہزار روپیہ کا اندازہ ہے یہ رقم جماعت کی عورتیں مل کر ادا کریں۔چنانچہ ہماری جماعت کی عورتوں نے اپنی قدیم روایتوں کو قائم رکھا ہے اور اس وقت تک ۳۴ ہزار روپے کے وعدے ہو چکے ہیں۔گو خدا تعالیٰ کے فضل سے رقم پوری ہو چکی ہے بلکہ جتنا مطالبہ کیا گیا تھا اس سے زائد وعدے ہو چکے ہیں لیکن ابھی جماعت کی عورتوں کا ایسا حصہ باقی ہے جنہوں نے اس میں حصہ نہیں لیا اور میں چاہتا ہوں کہ ہر ایک عورت اس میں شامل ہو جائے وہ ایک ادھنی یا ایک پائی ہی دے مگر اس نیکی میں شامل ہونے سے محروم نہ رہے اس لئے میں چاہتا ہوں کہ جن عورتوں نے ابھی تک حصہ نہیں لیا وہ بھی ضرور حصہ لیں۔اگر کوئی عورت ادھنی دے سکتی ہے تو وہ ادھنی دے کر ہی اس نیکی میں شامل ہو جائے کیونکہ رقم کا سوال نہیں بلکہ سوال یہ ہے کہ جس وقت جرمن زبان میں یہ ترجمہ شائع ہو گا تو ہر آدمی جو اس ترجمہ سے فائدہ اُٹھائے گا وہ ان عورتوں کو دعا دے گا کہ اُن پر خدا تعالیٰ کی رحمتیں نازل ہوں جن کے ذریعہ یہ نعمت ہم تک پہنچی