انوارالعلوم (جلد 17) — Page 421
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۲۱ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات کر جاتا ہے اس لئے میں نے دونوں کو توجہ دلا دی ہے کہ اگر مرکز شستی کرے گا تو افراد اس سستی کو دور کرنے کی طرف مرکز کو توجہ دلا سکیں گے اور اگر افراد شستی کریں گے تو مرکز اُن کی اصلاح کی کوشش کرے گا۔اس وقت تک مرکزی لجنہ کا قصور ہے اور اُن کی غلطی ہے کہ ابھی تک اُنہوں نے اپنے دفتر کو منظم نہیں کیا۔بڑے کام بغیر کسی عملہ کے نہیں ہو سکتے میں نے کئی دفعہ لجنہ کی عورتوں کو توجہ دلائی کہ وہ دفتر میں ایسی مستقل کا رکن عورتیں مقرر کریں جو پورا وقت دفتر میں کام کریں۔آخر عورتیں مدرسوں میں پڑھاتی ہیں۔ڈاکٹری کرتی ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ مستقل طور پر کام کرنے والی عورتیں دفتر کو نہ مل سکیں۔پس میں سمجھتا ہوں کہ ایسی عورتیں مل سکتی ہیں جو مناسب گزاره پر کلرک یا سیکرٹری کے طور پر باقاعدہ دفتر میں کام کریں اور باہر کی لجنات سے خط و کتابت کریں۔اس وقت یہ کام ایسی عورتوں کے سپرد ہے جن کو کبھی فرصت ہوتی ہے اور کبھی نہیں ہوتی اس لئے وہ اِس رنگ میں کام نہیں کر سکتیں جس رنگ میں کہ ہونا چاہئے۔میں نے خدام کو بھی شروع شروع میں نصیحت کی تھی کہ اپنے دفتر میں مستقل کا رکن رکھو اور اس بات کی پرواہ نہ کرو کہ ایسے کارکنوں کو گزارے کے لئے کچھ رقم دینی پڑے گی کیونکہ جب تک تم مستقل کا رکن نہیں رکھو گے اُس وقت تک تم کبھی کامیاب نہیں ہو سکتے۔چنانچہ خدام نے ایسے کارکن رکھے اور بہت حد تک ہندوستان میں اُن کی تنظیم ہو چکی ہے اسی طرح نجنہ بھی جب تک مستقل کا رکن دفتر میں مقرر نہیں کرے گی اُس وقت تک وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتی۔یہ خیال بالکل غلط ہے کہ بغیر مستقل طور پر کام کرنے والی عورتوں کے وہ اس کام میں کامیاب ہوسکیں گی۔شاید عورتیں آج سے پانچ سال پہلے منظم ہو جاتیں اگر مرکزی دفتر میں مستقل طور پر کام کرنے والی کلرک عورتیں مقرر ہوتیں جو باقاعدہ باہر کی عورتوں سے خط و کتابت کرتیں۔پس میں لجنہ اماءاللہ مرکز یہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ جنوری ۱۹۴۵ء میں وہ اپنے کام کی سکیم مرتب کر لیں اور ایسی کلرک عورتیں اپنے دفتر میں مقرر کریں جن کا یہ کام ہو کہ وہ ہر روز بیرون جات کی عورتوں سے خط و کتابت کریں اور جہاں کے پتے ان کو معلوم نہ ہوں صدرانجمن کے ذریعہ سے وہاں کے مرد سیکرٹریوں کے پتے دریافت کر کے اُن کو خط لکھ کر وہاں کی عورتوں کے متعلق دریافت کرلیں اور پھر ان عورتوں سے خط و کتابت کر کے وہاں لجنہ قائم کریں۔اس طرح جب ہر جگہ لجنہ اماءاللہ