انوارالعلوم (جلد 17) — Page 420
انوار العلوم جلد ۷ ۴۲۰ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات جماعت کی خواتین کو خصوصیت کے ساتھ یہ نصیحت کرتا ہوں کہ وہ یہاں سے یہ پختہ ارادہ کر کے جائیں کہ اپنے شہر اور اپنے گاؤں میں لجنہ قائم کئے بغیر وہ دم نہیں لیں گی اور اگر اُن کے ہاں پڑھی لکھی عورتیں نہ ہوں اور خط و کتابت کرنے میں دقت ہو تو وہ کسی مرد سے خط لکھوا لیں اور لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو اطلاع دیں اور اپنی ضروریات اُن کے سامنے بیان کریں یا مجھے خط لکھوا دیں میں اُن کی ضروریات پورا کرنے کا انتظام کرادوں گا۔میرا منشاء ہے مبلغین کے سپر دبھی یہ کام کیا جائے کہ جہاں جہاں وہ جائیں وہاں لجنہ اماءاللہ ضرور قائم کریں اور اس سال کے اندر اندر ہر گاؤں ، ہر قصبہ اور ہر شہر میں یہ کام ہو جائے۔اس وقت گاؤں تو الگ رہے کئی شہروں میں بھی ابھی لجنا ئیں قائم نہیں۔پس اس سال اس کے لئے پوری پوری کوشش ہونی چاہئے کہ ۱۹۴۵ء کے اندر اندر ہر جماعت میں عورتوں کی تنظیم اور لجنہ کا قیام ہو جائے تاکہ خدا تعالیٰ توفیق | دے تو دوسرے سال ہم عورتوں کی اصلاح اور تربیت کی طرف قدم اُٹھا سکیں۔لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو بھی میں ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنے دفتر کو مضبوط کرے اور اپنے کام کی اہمیت کو سمجھے۔اس وقت تک قادیان کی لجنہ اماءاللہ کو ہی لجنہ مرکز یہ سمجھا جاتا ہے حالانکہ ہونا یہ چاہئے کہ قادیان کی لجنہ دوسرے شہروں کی لجناؤں کی طرح الگ ہو اور لجنہ مرکز یہ الگ ہو۔پھر لجنہ مرکز یہ چھ سات مختلف کاموں کے لئے مختلف سیکرٹری مقرر کرے اور اُن کے الگ الگ دفاتر بنا کر جن جماعتوں کا اُنہیں پتہ ہو اُن کے ساتھ خط و کتابت کریں اور جن جماعتوں کا اُنہیں علم نہ ہو اُن کا پتہ صدر انجمن احمدیہ کے دفتر سے لے لیں اور پھر وہاں کے مرد سیکرٹری سے خط و کتابت کر کے وہاں کی عورتوں کے متعلق دریافت کر لیں اور پھر وہاں پر لجنہ قائم کرنے کی کوشش کریں۔پس ایک طرف تو میں ہر عورت کو نصیحت کرتا ہوں کہ یہاں سے وہ اس ارادہ کے ساتھ اپنے وطن واپس جائے کہ وہاں جا کر ضرور لجنہ اماءاللہ قائم کرے گی اور دوسری طرف میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کو اس ذمہ داری کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ یہ فیصلہ کرے کہ اس سال کے اندراندر ہندوستان کے ہر شہر، ہر قصبہ اور ہر گاؤں میں ضرور لجنہ اماءاللہ قائم کر دے گی اور نہ صرف ہندوستان میں بلکہ ہندوستان سے باہر بھی بنا ئیں قائم کرنے کی کوشش کرے گی۔میں دونوں کو اس لئے توجہ دلاتا ہوں کہ بعض دفعہ افراد سستی کر جاتے ہیں اور بعض دفعہ مرکز شستی