انوارالعلوم (جلد 17) — Page 422
انوار العلوم جلد کا ۴۲۲ لجنہ اماءاللہ کی تنظیم سے متعلق ضروری ہدایات قائم ہو جائے گی تو اُن کی ضرورتوں کا لجنہ مرکز یہ کو علم ہوتا رہے گا اور اُن کی اصلاح اور تربیت کی طرف توجہ ہو سکے گی۔اگر کسی جگہ قرآن مجید جاننے والی کوئی عورت نہ ہوگی تو وہاں کی عورتیں لجنہ مرکز یہ کولکھیں گی کہ ہمارے لئے اُستانی مقرر کرو جو ہمیں قرآن شریف پڑھائے۔اگر کسی جگہ اُردو جاننے والی کوئی عورت نہیں ہوگی تو وہاں کی عورتیں ، لجنہ مرکز یہ کولکھیں گی کہ کسی اُستانی کا انتظام کیا جائے جو ہمیں اُرود پڑھائے تا کہ ہم سلسلہ کے اخبار اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب پڑھ سکیں۔تو وہاں کی لجنہ ، مرکزی لجنہ سے خط و کتابت کر کے اپنی ضرورتیں اُن کے سامنے بیان کرے گی اور لجنہ مرکزیہ کا کام ہوگا کہ اُن کی اس قسم کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کوشش کرے۔پس جب تک عورتوں کی تربیت کے مسئلہ کو حل نہیں کیا جائے گا اُس وقت تک کام نہیں بن سکتا۔عورت نہایت قیمتی ہیرا ہے لیکن اگر اس کی تربیت نہ ہو تو اس کی قیمت کچے شیشہ کے برابر بھی نہیں کیونکہ شیشہ تو پھر بھی کسی نہ کسی کام آ سکتا ہے لیکن اُس عورت کی کوئی قیمت نہیں جس کی تعلیم و تربیت اچھی نہ ہو اور وہ دین کے کسی کام نہ آسکے۔پس جب تک افراد کی درستی نہ ہو اُس وقت تک قوم کبھی درست نہیں ہو سکتی کیونکہ قوم افراد کے مجموعہ کا نام ہے پس لجنہ اماءاللہ مرکز یہ نے بہت بڑا کام کرنا ہے جو یہ ہے کہ جماعت کی تمام عورتوں کو اس قابل بنادیا جائے کہ وہ دین کی باتوں کو پڑھ کر اُن پر غور کر سکیں اور اُن کو سمجھ سکیں۔جب دینی باتوں کی تفصیلات پر غور کرنے کا مادہ اُن کے اندر پیدا ہو جائے گا اس کے بعد پھر یہ امید ہو سکتی ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری کو سمجھ سکیں اور دین کے لئے مفید کام کر سکیں۔جس طرح انسان کا ہاتھ ہی ہوتا ہے جو سارے کام کرتا ہے لیکن بندھا ہوا یا زخمی ہاتھ کیا کام کر سکتا ہے اسی طرح عورتیں بے شک قیمتی اور مفید وجود ہیں جو بہت کام کر سکتی ہیں لیکن پہلے ان کو مفید اور کام دینے کے قابل بنانا پڑے گا۔اور جس طرح پہلے ہیرے کو تراشا جاتا ہے اور پھر وہ مفید اور زینت کا موجب ہوتا ہے اسی طرح عورتوں کی بھی اصلاح کرنی پڑے گی پھر وہ دین کے لئے مفید ہو سکیں گی۔پس لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے ابھی بہت لمبی منزل طے کرنی ہے اور بہت بڑا کام اُس کے سامنے ہے جس کے لئے رات اور دن قربانی کی ضرورت ہے اور ایسی عورتوں کی ضرورت ہے جو اپنے آپ کو دین کے لئے وقف کریں جس طرح مرودں نے اپنے آپ کو وقف