انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 403 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 403

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۰۳ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۴ ء گئے مگر بہت اس مقام سے آگے بڑھ کر اِس درجہ پر پہنچ جاتے ہیں کہ انہیں خدا تعالیٰ کا عرش نظر آنے لگتا ہے۔وہ خدا تعالیٰ کی باتیں سنتے اور اس کے خاص انعامات کے مورد بنتے ہیں۔خدا اُن کا ہو جاتا ہے وہ خدا کے ہو جاتے ہیں۔پس اس نازک وقت اور نازک مقام کی وجہ سے جماعت کی ذمہ داریاں بہت اہم ہیں اور آج آپ لوگوں کو سمجھ لینا چاہئے اور اچھی طرح سمجھ لینا چاہئے کہ وہ وقت آ گیا ہے کہ یا تو ہما را قدم نہایت بلند مقام کی طرف اُٹھے گا یا پھر نیچے کو گر جائے گا۔اللہ تعالیٰ نے اپنی مشیت اور ارادہ کے ماتحت اس بات کا ارشادفرمایا کہ میں اعلان میں اقرار کروں کہ میں وہی ہوں جس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۲۰ رفروری ۱۸۸۶ء کے اعلان میں خبر دی ہے اور جس کے متعلق لکھا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔میں تجھے ایک رحمت کا نشان دیتا ہوں۔اُسی کے موافق جو تو نے مجھ سے مانگا۔سو میں نے تیری تضرعات کو سنا اور تیری دعاؤں کو اپنی رحمت سے بپایہ قبولیت جگہ دی لے پھر فرمایا:۔تجھے بشارت ہو کہ ایک وجیہ اور پاک لڑکا تجھے دیا جائے گا۔ایک ز کی غلام تجھے ملے گا۔وہ لڑکا تیرے ہی تخم سے تیری ہی ذریت ونسل ہوگا“ ہے سوخدا تعالیٰ کے اس ارشاد کے ماتحت میں نے پہلے بھی اعلان کیا اور اس موقع پر بھی اعلان کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس پیشگوئی کا میں ہی مصداق ہوں مجھے کسی دعوی کی ضرورت نہیں اور کسی عزت کی خواہش نہیں۔میری تو ایک ہی خواہش ہے اور وہ یہ کہ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت میں جان دے دوں اور محمد علی کی کھوئی ہوئی وراثت آپ کے حضور پیش کر دوں۔میں نے بارہا اپنے مولیٰ سے التجا کی ہے اور ہمیشہ کرتا رہتا ہوں کہ الہی ! اگر میری مٹی بھی کسی ذلیل ترین مقام پر پھینک دینے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کی کچھ خدمت ہوسکتی ہے تو میری کسی لحاظ سے بھی کوئی پرواہ نہ کر اور محمد ﷺ کے مقام کی عزت کے لئے جو بھی قربانی کی