انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 402 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 402

انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۰۲ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۴ ء گیا ہے اور اُس نے پھر اسلام پر حملہ شروع کر دیا ہے۔مسلم ہر جگہ اور ہر میدان میں اور ہر ملک میں اور ہر علاقہ میں شکست کھا رہا ہے، اسلام کا جھنڈا سرنگوں ہو رہا ہے اور کفر کا جھنڈا اونچے مقام پر اہرارہا ہے مگر پھر بھی مسلمانوں کے دلوں میں کوئی جوش ، کوئی حرارت اور کوئی غیرت پیدا نہیں ہوتی۔اسلام دن بدن کمزور ہورہا ہے اور روز بروز گرتا جا رہا ہے ایسی حالت میں صرف اور صرف ایک ہی جماعت ہے جس نے اسلام کی امداد اور حفاظت کا بیڑہ اُٹھایا ہے اور وہ جماعت احمد یہ ہے۔آج سے پچاس سال پہلے اسلام کی خدمت اور حفاظت کا اعلان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کیا اور آج کے دن تک کوئی گھڑی ، کوئی لمحہ اور کوئی ساعت ایسی نہیں گزری کہ جس میں آپ یا آپ کی جماعت کی طرف سے اسلام کی خدمت نہ ہوئی ہو مگر جس حالت میں اس وقت آپ کی جماعت ہے اس کی تعداد اور طاقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ کمزور اور قلیل التعداد جماعت زبر دست اور ساری دنیا میں پھیلے ہوئے کفر کو زیر کر لے گی اور اس پر غالب آ جائے گی لیکن خدا تعالیٰ کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں اور کوئی طاقت ان کو روک نہیں سکتی۔ہمیں وہ نظارے بھی یاد ہیں جب دو چار آدمی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ تھے اور آج ہم یہ نظارہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا میں، دنیا کی ہر قوم میں ، ہر نسل میں اور ہر زبان بولنے والوں میں احمدی موجود ہیں اور ان میں ہمت اور اخلاص اور فداکاری کے جذبات اعلیٰ درجہ کے پائے جاتے ہیں اور وہ قربانی کے انتہائی مقام پر پہنچے ہوئے ہیں۔آج خدا تعالیٰ کا ہاتھ ان کو روک رہا ہے ورنہ وہ آگے بڑھ کر اپنی جانیں قربان کرنے کے لئے تیار ہیں۔پر دانے موجود ہیں شمع ہی انہیں قربان ہو جانے سے روک رہی ہے اور وہ جل جانے کی خواہش اور تمنا میں جل رہے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے ہماری جماعت تھوڑی سے بڑھ کر اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے اور اتنا وسیع کام اس کے سامنے ہے کہ جو قو میں اس مقام پر پہنچ جاتی ہیں وہ یا تو اوپر نکل جاتی اور سب رُکاوٹوں کو توڑ ڈالتی ہیں یا پھر تنزل کے گڑھے میں گر جاتی ہیں۔دراصل یہ مقام سب سے زیادہ خطر ناک ہوتا ہے بہت لوگ یہاں سے جب گرتے ہیں تو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کہاں چلے۔