انوارالعلوم (جلد 17) — Page 404
انوار العلوم جلد کا ۴۰۴ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۴۴ء جانی ضروری ہو وہ مجھ سے لے اور مجھے توفیق دے کہ میری زندگی اور میری موت تیرے لئے اور تیرے رسول کے لئے ہو اور میری ہی نہیں میرے دوستوں اور میرے عزیزوں کی زندگیاں بھی اسی کے لئے ہوں۔ہم تیرے دین کے لئے تیرے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کے قائم کرنے والے ہوں۔پس میں اب دعا کر کے اس جلسہ کا افتتاح کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہماری حقیر قربانیوں کو قبول فرمائے ہمارے دلوں میں کامل یقین اور ایمان پیدا کرے، ہم سب کو روحانی بینائی عطا کرے۔کوئی ہم میں سے نابینا نہ مرے۔وہ ہماری آنکھیں اِس طرح کھول دے کہ ہمارے سوتے جاگتے ، زندہ رہتے اور مرتے وقت خدا تعالیٰ ہمارے سامنے رہے اور وہ کسی وقت بھی ہم سے مخفی نہ ہو کیونکہ اُس سے ایک منٹ کی دوری بھی تباہی ہے۔مادی ہزار آنکھ بھی اگر پھوٹ جائے تو ہمیں کوئی پرواہ نہیں مگر دین کی آنکھ ضائع نہ ہو۔ہر حسین چہرہ ہم سے اوجھل ہو جائے تو ہو جائے مگر خدا تعالیٰ کا چہرہ اوجھل نہ ہو۔سب دوست دعا میں شریک ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس اجتماع کو با برکت بنائے۔خدا تعالیٰ کا چہرہ ہمیں اس شان سے نظر آئے کہ پھر وہ ہم سے اوجھل نہ ہو۔اسلام کو اس قدر بلندی حاصل ہو کہ آج جس مقام پر کفر ہے اسلام اس سے بہت بلند مقام پر پہنچے۔دنیا کا ایک ہی بادشاہ ہو یعنی محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اور ایک ہی خالق اور رب ہو یعنی اللہ۔تمام مجمع سمیت دعا کرنے کے بعد فرمایا۔) دوستوں کو میں یاد دلاتا ہوں کہ یہ ایام خاص دعاؤں کے ہیں تمام احمدی جماعتوں کے پریذیڈنٹوں اور سیکرٹریوں کا کام ہے کہ اپنی جماعت کے سب لوگوں کو دین کے کام میں لگائے رکھیں اور ادھر اُدھر نہ پھرنے دیں۔اسی طرح لجنہ اماء اللہ کو چاہئے کہ عورتوں میں یہ تبلیغ جاری رکھیں کہ نمازوں کی پوری طرح پابندی کریں، دعاؤں میں مصروف رہیں ، پردہ کا خیال رکھیں ، ایسے ہجوم میں پردہ کا خیال کم رکھا جاتا ہے لیکن اگر ہمارا کام اسلام کو قائم کرنا ہے تو اسی صورت میں قائم کرنا ہے جس میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا ورنہ اگر کسی اور شکل میں قائم کریں گے تو یہ اسلام کی