انوارالعلوم (جلد 17) — Page 284
۲۸۴ انوار العلوم جلد ۱۷ زندگی وقف کرنے کی تحریک سمجھ لے کہ اب دس پندرہ آدمی میری باتوں میں دلچسپی لینے لگ گئے ہیں تو وہ اُسی جگہ بیٹھ جائے اور مدرسہ جاری کر دے جس میں لوگوں کو دین کی باتیں سکھائے۔جوں جوں لوگ اس سے پڑھیں گے وہ اردگرد کے گاؤں اور دیہات میں ان اثرات کو پھیلائیں گے۔آگے وہ اور لوگوں تک اِن باتوں کو پہنچائیں گے یہاں تک کہ اس کے ذریعہ ہزارہا معلم اور ہزار ہا مدرس پیدا ہو جا ئیں گے جو لاکھوں کروڑوں کی ہدایت کا موجب ہوں گے۔یہ وہ روح ہے جس کو پیدا کئے بغیر تبلیغ میں کبھی کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی۔پھر تبلیغ کے لئے لٹریچر کی اشاعت بھی بڑی ضروری چیز ہے اور چونکہ دنیا میں کئی زبانیں بولی جاتی ہیں اس لئے ضروری ہے کہ ہمارے پاس مختلف زبانوں میں لٹریچر موجود ہو۔اب تو یہ حالت ہے کہ جامعہ احمدیہ سے ایک طالب علم نکلتا ہے تو دعوۃ و تبلیغ والے کہتے ہیں اسے تبلیغ کے لئے لو۔پھر وہ اسے دفتر میں بٹھا لیتے ہیں اور جب گجرات یا جہلم سے کوئی چٹھی آتی ہے تو اسے تقریر کے لئے وہاں بھجوا دیتے ہیں۔اُنہوں نے کبھی اِس بات کو مد نظر ہی نہیں رکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام صرف قادیان یا پنجاب کے لئے نہیں آئے تھے بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ساری دنیا کے لئے آئے تھے جس میں سینکڑوں زبانیں بولی جاتی ہیں۔پس ان کا فرض تھا کہ وہ دنیا کی ہر زبان کے لئے مبلغ تیار کرتے اور ہر زبان میں لٹریچر تیار کراتے۔مگر پچاس سال گزر گئے انہوں نے اس بات کی طرف توجہ ہی نہیں کی بلکہ ساری دنیا کو جانے دو، سوال یہ ہے کہ کیا ہندوستان میں ہی صرف اُردو زبان بولی جاتی ہے کوئی اور زبان نہیں بولی جاتی ؟ جب ہندوستان میں ہی کئی زبانیں بولی جاتی ہیں تو محکمہ دعوۃ و تبلیغ نے یہ کس طرح سمجھ لیا کہ وہ اُردو میں بولنے والے مبلغ رکھ کر اپنے فرض سے سبکدوش ہو گیا ہے۔پنجاب میں بے شک اُردو بولی جاتی ہے مگر بنگال میں اُردو زبان کام نہیں دے سکتی بلکہ بنگالی کام آتی ہے۔اڑیسہ میں ار یہ زبان کام آتی ہے۔بمبئی میں مرہٹی یا گجراتی کام آتی ہے۔سی پی میں بھی گجراتی کام آتی ہے۔مدراس میں تامل، تلنگو ، اور مالا باری کام دیتی ہے۔صوبہ سرحد میں پشتو اور فارسی کام دیتی ہیں۔پھر بڑے بڑے شہروں مثلاً کلکتہ، بمبئی ، ڈھاکہ، مدراس اور کراچی وغیرہ میں بھی اُردو کام نہیں آتی بلکہ انگریزی کام آتی ہے۔سندھ میں سندھی زبان بولی جاتی ہے مگر انہوں نے اس بات کو کبھی مد نظر ہی نہیں رکھا۔بس اپنا کام صرف اتنا ہی سمجھ لیا کہ مبلغوں کو دفتر