انوارالعلوم (جلد 17) — Page 283
انوار العلوم جلد کا ۲۸۳ زندگی وقف کرنے کی تحریک اخراجات کس طرح پورے ہو سکیں گے۔پس اصل تبلیغ ہم اسی طرح کر سکتے ہیں اس کے بغیر اگر ہم تبلیغ کرنا چاہیں تو مجھے اس میں کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔چونکہ بہت سے دوستوں نے میرے اعلان پر اپنی زندگیوں کو سلسلہ کے لئے وقف کیا ہے اس لئے میں انہیں نصیحت کرتا ہوں کہ وہ قربانی کا ارادہ اور عزم اپنے اندر پیدا کریں ورنہ سلسلہ کبھی کامیاب تبلیغ نہیں کر سکتا۔اگر وہ یسے مبلغ آئیں جو بغیر کسی معاوضہ کے تبلیغ کے لئے نکل کھڑے ہوں تو ہمیں ان کے متعلق کوئی فکر نہیں ہو گا۔مگر آب تو لوگ اُدھر زندگی وقف کرتے ہیں اور ادھر ہمیں فکر پیدا ہونا شروع ہو جاتا ہے کہ ہمارے پاس اتنا روپیہ بھی ہے یا نہیں کہ ہم ان کا وقف قبول کریں۔لیکن اگر وہ ہم سے معاوضہ لئے بغیر نکل جائیں، سادہ لباس پہنیں اور سادہ خوراک استعمال کریں، اخلاص اور تقویٰ سے کام لیں تو نہ سلسلہ پر بار پڑ سکتا ہے اور نہ ان کو کوئی خاص پریشانی لاحق ہوسکتی ہے کیونکہ جب وہ اخلاص سے کام کریں گے تو اللہ تعالیٰ ان کے کام میں برکت ڈال دے گا اور ان کے اردگرد ایک جماعت پیدا کر دے گا۔پھر وہ یہ بھی کر سکتے ہیں کہ کسی موزوں مقام کا انتخاب کر کے وہاں بیٹھ جائیں اور لوگوں کو درس دینا شروع کر دیں۔پس اس طریق کے ماتحت یہ نہیں ہوگا کہ وہ ہمیشہ پھرتے رہیں گے بلکہ اگر کسی علاقہ میں زیادہ لوگ احمدی ہو جائیں تو وہ ایسا بھی کر سکتے ہیں کہ وہ اُسی جگہ بیٹھ جائیں اور لوگوں کو درس دینا شروع کر دیں۔درس سے اُن کی کمائی کی صورت بھی پیدا ہو جائے گی اور تبلیغ کا دائرہ بھی وسیع ہو جائے گا۔ہندوستان میں بہت بڑا اثر حضرت شاہ ولی اللہ صاحب اور حضرت سید احمد صاحب بریلوی کے طریق تبلیغ کا ہوا ہے۔حضرت سید احمد صاحب در حقیقت حضرت ولی اللہ شاہ صاحب دہلوی کے علمی طور پر شاگر د ہی تھے اور ان دونوں بزرگوں نے جس طریق سے کامیابی حاصل کی وہ یہی تھا کہ انہوں نے درس جاری کر دیئے جن میں جوق در جوق لوگوں نے شامل ہونا شروع کر دیا اور اس طرح سارے ہندوستان میں ان کے شاگر د پھیل گئے۔پہلے ایک شخص ان سے تعلیم لے کر نکلا، پھر دوسرا شخص نکلا ، پھر تیسرا شخص نکلا یہاں تک کہ انہوں نے درسوں کے ذریعہ سب جگہ اپنے عقائد پھیلا دیئے۔مگر یہ تبلیغ کا دوسرا ذریعہ ہے پہلا ذریعہ یہی ہے کہ انسان خود علم سیکھے اور دوسروں کو تبلیغ کرے۔جب تبلیغ کرتے کرتے اُسے کوئی مرکز نظر آ جائے اور وہ