انوارالعلوم (جلد 17) — Page 285
انوار العلوم جلد کا ۲۸۵ زندگی وقف کرنے کی تحریک میں بٹھا لیا اور جب گجرات یا جہلم یا کسی اور جگہ سے کوئی چٹھی آئی تو وہاں دو دن کے لئے مبلغ بھیجوا دیا اور پھر دو دو مہینے اسے آرام کرنے کے لئے اپنے گھر میں بٹھا دیا۔پھر کسی جگہ سے چٹھی آتی تو پھر چند دنوں کے لئے انہیں تقریر کرنے کے لئے بھیجوا دیا۔اب میں نے بڑی مشکل سے ان مبلغوں کو باہر نکالا ہے مگر ان میں سے اکثر ایسے مبلغ ہیں جو پنجاب کے باہر اور کہیں کام نہیں کر سکتے۔حالانکہ سرحد میں تبلیغ کا خدا نے ایک بہترین ذریعہ یہ پیدا کر رکھا ہے کہ وہاں ہمارے شہداء نے اپنے خون سے سلسلہ کی صداقت کی وہ تحریر لکھ رکھی ہے جو ہزاروں لوگوں کی ہدایت کا موجب ہوسکتی ہے۔مگر افسوس اس زبان میں تبلیغ کی طرف توجہ ہی نہیں کی گئی۔اسی طرح سندھ میں تبلیغ کا بڑا میدان ہے مگر ہمارے پاس سندھی زبان کا ماہر کوئی مبلغ موجود نہیں۔اسی طرح گجراتی ، مرہٹی ، تامل، تلنگو ، بنگالی، ہندی اور اڑیہ وغیرہ زبانیں جانے والے ہمارے پاس کوئی مبلغ نہیں۔اگر دعوۃ و تبلیغ والے سوچتے کہ ہم یہ کیا کر رہے ہیں تو وہ کب سے بیدار ہو چکے ہوتے اور انہیں محسوس ہوتا کہ وہ ایک غلط قدم اُٹھا رہے ہیں۔مگر مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ انہوں نے نہ صرف اور زبانوں کی طرف توجہ نہیں کی بلکہ کوئی ایسا مبلغ بھی تیار نہیں کیا جو انگریزی میں عمدگی سے تقریریں وغیرہ کر سکے۔اس وقت دنیا میں ایک شور مچ رہا ہے۔اور بمبئی ، کلکتہ اور مدراس وغیرہ سے چٹھیاں آ رہی ہیں کہ ہماری طرف مبلغ بھیجے جائیں جو انگریزی میں تقریریں وغیرہ کر سکیں۔مگر دعوت وتبلیغ والے کہتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی انگریزی بولنے والا مبلغ نہیں۔پچاس سال سے کفر کے ساتھ جنگ لڑی جا رہی ہے اور ابھی تک انہیں خیال ہی پیدا نہیں ہوا کہ ہم اپنے مبلغوں کو کس کس رنگ میں تیار کریں۔سوتے ہوئے دیوؤں کے متعلق بھی مشہور ہے کہ انہیں چھ مہینے کے بعد ہوش آ جاتی ہے مگر یہاں پچاس سال گزر گئے اور ابھی تک آنکھ نہیں کھلی۔اب وقت آ گیا ہے کہ اس رنگ میں کام کیا جائے۔چنانچہ میں جن واقفین زندگی کو تیار کر رہا ہوں اُن کے متعلق میری یہی سکیم ہے کہ اُنہیں دنیا کی ایک ایک زبان کا ماہر بنا دیا جائے تا کہ ہر زبان میں کام کرنے والے تحریک جدید کے مبلغ ہمارے پاس موجود ہوں اور ہم انہیں دنیا میں پھیلا کر اسلام کی اشاعت کا کام سرانجام دے سکیں۔ان واقفین کی تعلیم پر بہت سا وقت ضائع بھی ہوا ہے کیونکہ ہر چیز تجربہ سے حاصل ہوتی ہے لیکن اب چونکہ ایک تجربہ ہو چکا ہے اس لئے