انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 210 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 210

۲۱۰ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں انوار العلوم جلد ۱۷ جمع کیا تھا اُنہوں نے اُس چندہ میں سے دو سو روپیہ اس اشتہار کے چھپوانے کے لئے دیا اور کہا کہ جب خزانہ میں روپیہ آنا شروع ہو جائے گا تو یہ دوسو رو پیدا دا ہو جائے گا۔غرض وہ روپیہ اُن سے قرض لے کر یہ اشتہار شائع کیا گیا۔مگر اُس وقت جب جماعت کے سرکردہ لوگ میرے مخالف تھے ، جب جماعت کے لیڈر میرے مخالف تھے ، جب خزانہ خالی تھا، جب صرف چودہ آنے کے پیسے اس میں موجود تھے، جب اٹھارہ ہزار کا انجمن پر قرض تھا، جب انجمن کی اکثریت میری مخالف تھی ، جب انجمن کا سیکرٹری میرا مخالف تھا، جب مدرسہ کا ہیڈ ماسٹر میرا مخالف تھا میرے یہ الفاظ ہیں جو میں نے خدا کے منشاء کے ماتحت اُس اشتہار میں شائع کئے کہ : خدا چاہتا ہے کہ جماعت کا اتحاد میرے ہی ہاتھ پر ہو اور خدا کے اس ارادہ کو اب کوئی نہیں روک سکتا۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ ان کے لئے صرف دو ہی راہ کھلے ہیں یا تو وہ میری بیعت کر کے جماعت میں تفرقہ کرنے سے باز رہیں یا اپنی نفسانی خواہشات کے پیچھے پڑ کر اس پاک باغ کو جسے پاک لوگوں نے خون کے آنسوؤں سے سینچا تھا اُکھاڑ کر پھینک دیں۔جو کچھ ہو چکا ہو چکا مگر اب اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کا اتحاد ایک ہی طریق سے ہو سکتا ہے کہ جسے خدا نے خلیفہ بنایا ہے اُس کے ہاتھ پر بیعت کی جائے ورنہ ہر ایک شخص جو اُس کے خلاف چلے گا تفرقہ کا باعث ہوگا۔پھر میں نے لکھا۔اگر سب دنیا مجھے مان لے تو میری خلافت بڑی نہیں ہو سکتی اور سب کے سب خدانخواستہ مجھے ترک کر دیں تو بھی خلافت میں فرق نہیں آسکتا۔جیسے نبی اکیلا ہی نبی ہوتا ہے اسی طرح خلیفہ اکیلا بھی خلیفہ ہوتا ہے۔پس مبارک ہے وہ جو خدا کے فیصلہ کو قبول کرے۔خدا تعالیٰ نے جو بو جھ مجھ پر رکھا ہے وہ بہت بڑا ہے اور اگر اُس کی مدد میرے شاملِ حال نہ ہو تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔لیکن مجھے اس پاک ذات پر یقین ہے 66 کہ وہ ضرور میری مدد کرے گی۔“ غرض طرح طرح کی مخالفتیں ہوئیں سیاسی بھی اور مذہبی بھی ، اندرونی بھی اور بیرونی بھی