انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 209 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 209

انوار العلوم جلد ۱۷ ۲۰۹ میں ہی مصلح موعود کی پیشگوئی کا مصداق ہوں امام جماعت احمدیہ کی آج شدید ہتک کی گئی ہے چنانچہ بعد میں واپس آ کر انہوں نے خود ہی ذکر کیا کہ میں چوہدری افضل حق صاحب کے ساتھ اُن کے دروازہ تک گیا تھا اور اُن سے کہا تھا کہ آپ نے آج جو کچھ کیا ہے اچھا نہیں کیا اور چوہدری افضل حق صاحب کہتے تھے کہ اب میں بھی محسوس کرتا ہوں کہ مجھے یہ الفاظ نہیں کہنے چاہئے تھے اصل بات یہ ہے غصہ میں میری زبان قابو میں نہیں رہی تھی۔تو لوگوں نے ہر طرح زور لگایا کہ ہمارے سلسلہ کو مٹا دیں۔یہاں تک کہ ۱۹۳۴ء میں انگریزی گورنمنٹ بھی ہماری جماعت کی مخالف ہوگئی۔سرایمرسن جو گورنر پنجاب رہ چکے ہیں گورنری سے پہلے میرے بڑے دوست تھے۔یہاں تک کہ لندن سے انہوں نے مجھے چٹھی لکھی کہ میں اب گورنر بن کر آ رہا ہوں اور امید کرتے ہیں کہ آپ میرے ساتھ تعاون کریں گے مگر یہاں آتے ہی ہماری جماعت کے شدید مخالف ہو گئے یہاں تک کہ سر فضل حسین صاحب نے ایک ملاقات کے دوران میں مجھ سے کہا کہ نہ معلوم سرایمرسن کو کیا ہو گیا ہے وہ تو آپ کے سلسلہ کو بہت کچھ بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں۔پھر انہوں نے کریمنل لاء ایمنڈ من(CRIMINAL LAW AMENDMEN) ایکٹ مجھ پر لگانا چاہا اور قادیان میں احرار کا جلسہ کرایا جس میں ہمارے سلسلہ کی شدید ہتک کی گئی۔غرض ہر رنگ میں ہماری مخالفت ہوئی اور ہر طبقہ نے مخالفت کی۔افغانستان میں میرے زمانہ میں جماعت احمد یہ کے چار آدمی یکے بعد دیگرے شہید کئے گئے حالانکہ افغانستان کے وزیر خارجہ نے خود ہمیں چٹھی لکھی تھی کہ افغانستان میں آپ کو تبلیغ کی اجازت ہے بے شک اپنے مبلغ بھجوا ئیں۔مگر جب ہم نے اپنے مبلغ بھجوائے تو حکومت نے اُن کو سنگسار کر دیا۔غرض جتنا زور دنیا لگا سکتی تھی اس نے لگا کر دیکھ لیا مگر باوجود اس کے خدا نے ہمیں بڑھایا اور ایسی ترقی دی جو ہمارے وہم اور خیال میں بھی نہیں تھی۔جب میں خلیفہ ہوا اُس وقت ہمارے خزانہ میں صرف چودہ آنے کے پیسے تھے اور ۱۸ ہزار کا قرض تھا یہاں تک کہ میں نے اپنے زمانہ خلافت میں جو پہلا اشتہار لکھا اور جس کا عنوان تھا۔”کون ہے جو خدا کے کام کو روک سکے اُس کو چھپوانے کے لئے بھی میرے پاس کوئی روپیہ نہ تھا۔اُس وقت ہمارے نانا جان کے پاس کچھ چندہ تھا جو اُنہوں نے مسجد کے لئے لوگوں سے