انوارالعلوم (جلد 17) — Page 86
انوار العلوم جلد ۷ ۸۶ کہ اگر وہ اس غار میں نہیں ہیں تو پھر یقیناً آسمان پر چلے گئے ہیں اور کسی طرف پاؤں کے آثار نہیں ہیں۔یہ سن کر سارے کے سارے ہنسنے لگ گئے کہ آج یہ کھوجی کیسی احمقانہ باتیں کر رہا ہے معلوم ہوتا ہے یہ پاگل ہو گیا ہے اور کسی کو جرات نہ ہوئی کہ وہ جھانک کر اندر دیکھے کہ کیا اندر تو کوئی آدمی چھپا ہوا نہیں۔جب تمام کفار غار ثور کے منہ پر پہنچ گئے اُس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ گھبرائے۔چنانچہ اس واقعہ کو اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں یوں بیان فرماتا ہے۔إذْ اخْرَجَهُ الَّذِينَ كَفَرُوا تَانِيَ اثْنَيْنِ إِذْ هُمَا فِي الْغَارِ إِذْ يَقُولُ يصاحبه لا تحزن إن اللهَ مَعَنَا فَانْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ وايدة بِجُنُودٍ لَمْ تَرَوْهَا وَجَعَلَ كَلِمَةَ الَّذِينَ كَفَرُوا السُّفْلَى، وَكَلِمَةُ الله هي العليا، والله عَزیزُ حَكِيم ۲۴ فرماتا ہے اُس وقت کو یاد کرو جب اُس کی قوم نے اور اُن لوگوں نے جو کافر تھے اُسے مکہ سے نکال دیا۔ثاني اثنلن اُس وقت وہ صرف دو ساتھی تھے ایک وہ اور ایک ابوبکر۔اِذْ هُمَا في الغار دونوں غار میں جا کر چھپ گئے۔إذْ يَقُولُ لِصَاحِبِهِ لا تَحْزَنَ إِنَّ اللهَ مَعنا۔جب کفار تلاش کرتے غارِ ثور کے منہ پر پہنچ گئے تو اُس کا ساتھی گھبرا گیا اور اُس نے کہا يَا رَسُولَ اللہ ! یہ لوگ تو آ پہنچے۔اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا۔لا تحزن إن الله معنا گھبراؤ نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے یہ لوگ کہاں ہم کو گرفتار کر سکتے ہیں۔۲۵ اب کوئی انسان خواہ وہ ہندو ہو، سکھ ہو، عیسائی ہو، کسی مذہب وملت کا پیرو ہو ، وہ اس مقام پر غور کرے اور اپنے آپ کو اس جگہ پر کھڑا کر کے سوچے کہ کس قدر بے مثال ایمان اور بے مثال یقین تھا ذات باری پر جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں پایا جاتا تھا۔غار میں بیٹھے ہیں دشمن سر پر آ پہنچا ہے۔غار کا منہ بھی چھوٹا نہیں دو تین گز چوڑا ہے۔اُن کے ساتھ وہ ماہر کھوجی ہے جس پر تمام قوم اعتماد رکھتی ہے جو اپنے فن میں پوری مہارت رکھتا ہے۔جو نقش پا کو خوب اچھی طرح پہچانتا ہے وہ کہتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی غار میں ہیں اور اگر یہاں نہیں تو آسمان پر چلے گئے ہیں۔اُس وقت جب تمام کفا ر غار کے سر پر کھڑے تھے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا بڑے