انوارالعلوم (جلد 17) — Page 87
۸۷ انوار العلوم جلد ۱۷ اطمینان کے ساتھ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے یہ فرمانا کہ لا تَحْزَنَ إِنَّ اللَّهَ مَعنا غم مت کرو، یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کفار یہاں آ جائیں۔جس طرح خدا ان دنیا کے اندھوں کو نظر نہیں آتا اسی طرح ہم بھی اِن لوگوں کو نظر نہیں آسکتے۔کوئی بتائے کہ کیا ایسے الفاظ کسی ایسے شخص کے منہ سے نکل سکتے ہیں جس نے خدا تعالیٰ کو نہ دیکھا ہو، جس نے اُس کی نصرت کا مشاہدہ نہ کیا ہو، جو اُس کے وجود پر کامل یقین نہ رکھتا ہو اور اُس کی معرفت سے نا آشنا ہو۔یقیناً یہ الفاظ کسی عام انسان کے منہ سے نہیں نکل سکتے اور یقیناً یہی وہ ایمان اور یقین ہے جو ایک اندھے انسان کو بھی خدا تعالیٰ کا کچھ نہ کچھ دیدار کرا دیتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آخر ہمارے جیسے ہی ایک انسان تھے پھر کیا چیز تھی جس نے اُن کو اس قدر یقین اور وثوق سے بھر دیا۔کونسی طاقت تھی جس کے بھروسہ پر ایسے حالات میں جب کہ دشمن سر پر کھڑا تھا اُسے روکنے والی کوئی چیز نہ تھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ایمان کا اظہار کیا۔کھوجی ساتھ تھا اور وہ اصرار کر رہا تھا کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) اسی غار کے اندر ہو سکتے ہیں اور کہیں نہیں۔جاؤ اور دیکھو تو سہی کہ کیا وہ اندر تو نہیں مگر وہ ایک قدم بھی نہیں اُٹھاتے وہ ہنستے ہیں کہ آج ہمارے کھوجی کو کیا ہو گیا۔آج اُس کی عقل کہاں گئی ، آج وہ کیوں دیوانوں کی سی باتیں کر رہا ہے۔محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) بھلا اس غار میں ہو سکتے ہیں اور وہ بھی ایسی حالت میں جب کہ مکڑی نے منہ پر جالا تن رکھا ہے؟ ایسے وقت میں، ایسی نازک گھڑیوں میں محمد رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمانا کہ لا تحزن إن الله معنا بتاتا ہے کہ جس طرح ایک انسان کو ایک اور ایک دو پر یقین ہوتا ہے اسی طرح بلکہ اس سے بھی زیادہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے خدا پر یقین تھا۔فَانْزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ پس اللہ تعالیٰ نے اُس پر سکینت نازل کی۔فَأَنْزَلَ اللَّهُ سَكِينَتَهُ عَلَيْهِ کا مرجع یاد رکھو! انتشار ضمائر عربی زبان کا خاصہ ہے جس کو نہ سمجھنے کی وجہ سے بعض لوگوں نے یہاں دھوکا کھایا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس قدر اطمینان سے بھرے ہوئے تھے کہ انہوں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا لا تحزن إن الله معنا اور دوسری طرف فرما تا فَانزَلَ اللهُ سَكِينَتَهُ ہے۔