انوارالعلوم (جلد 17) — Page 80
انوار العلوم جلد ۱۷ ۸۰ مانیں گے۔آپ اُسے کہیں گے کہ معلوم ہوتا ہے تم پاگل ہو گئے ہو کیونکہ وہ تو ہمارے سامنے تقریر کر رہے ہیں۔تو دیکھی ہوئی بات کے متعلق کوئی شخص طبہ نہیں کر سکتا۔حبہ اُسی چیز کے متعلق کیا جاتا ہے جو بے دیکھی ہو۔اللہ تعالٰی محمد رسول اللہ علیہ کے اس رسول کریم کا غیر متزلزل ایمان غیر متزلزل ایمان کے متعلق جو آپ کو عَلى وَجْهِ الْبَصِيرَتْ حاصل تھا قرآن کریم میں فرماتا ہے۔مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَمَا طَغَى لَقَدْ رَأَى مِن أيْت رَبِّهِ الكُبرى - أَفَرَأَيْتُمُ اللَّهَ وَالْعُزى وصلوة الثالثة الأخرى " اے لوگو! محمد رسول اللہ ﷺ نے ہم کو دیکھا ہے اور دیکھا بھی خوب اچھی طرح ہے۔اُس طرح نہیں دیکھتا جیسے لوگ بعض دفعہ جب کسی چیز کو دیکھتے ہیں تو بینائی کے نقص کی وجہ سے اُس کو صحیح طور پر نہیں دیکھ سکتے یا دُور سے دیکھ لیتے ہیں۔ما زاغ البصر فرماتا ہے۔دیکھنے میں دو نقص ہو جاتے ہیں۔ایک نقص تو یہ ہوتا ہے کہ انسان کی نظر پوری طرح اُس چیز تک نہیں پہنچتی اور ورے ہی رہ جاتی ہے۔مثلاً ایک شخص سو گز تک اچھی طرح دیکھ سکتا ہے لیکن چیز ڈیڑھ سو گز پر پڑی ہے اب یہ لازمی بات ہے کہ ایسا شخص ڈیڑھ سو گز سے اُس چیز کو دیکھے گا تو اپنی بینائی کے اس نقص کی وجہ سے اُسے صحیح طور پر نہیں دیکھ سکے گا۔لیکن فرماتا ہے ما زاغ البصر محمد رسول اللہ ﷺ نے جب ہمیں دیکھا تو اُن کی نظر اِدھر اُدھر نہیں چلی گئی بلکہ عین صحیح مقام پر پہنچی۔زاغ کے معنی ہوتے ہیں ادھر اُدھر ہو جانا یا ورے رہ جانا۔پس فرماتا ہے محمد رسول اللہ اللہ نے جب ہمیں دیکھا تو اُن کی نظر ایسی نہ تھی کہ وہ ورے رہ جاتی۔انہوں نے دیکھا اور خوب اچھی طرح دیکھا گویا انہوں نے توجہ سے بھی دیکھا اور اُن کی نظر بھی صحیح طور پر پہنچی۔ایسا نہیں ہوا کہ اُن کی نگاہ ورے ہی رہ گئی ہو۔پھر فرماتا ہے دما طی۔بعض لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے، دُور کی نظر اچھی ہوتی ہے اسی وجہ سے دونوں قسم کی عینکیں ہوتی ہیں۔جن کی قریب کی نظر کمزور ہوتی ہے اُن کو اور قسم کی عینک لگانی پڑتی ہے اور جن کی ڈور کی نظر کمزور ہوتی ہے اُن کو اور قسم کی