انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 79 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 79

انوار العلوم جلد کا ۷۹ آیا اور کہنے لگا میں تو یہ خبر سن کر مرنے ہی لگا تھا مگر خدا کا شکر ہے کہ خبر غلط ثابت ہوئی۔جب وہ قادیان میں آئے تو رات کا وقت تھا مگر وہ میاں بیوی آتے ہی میری سیڑھیوں میں بیٹھ گئے اور دستک پر دستک دینے لگ گئے۔میں نے دروازہ کھولا اور اُن سے ملاقات کی تو وہ کہنے لگے ہم تو یہ خبرسُن کر مرنے ہی لگے تھے بھلا آپ کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے۔مگر مجھے تعجب آتا ہے کہ اب وہی مخالفوں میں بیٹھتے ہیں، مخالفانہ باتیں کرتے ہیں اور انہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔اس تغیر کی یہی وجہ ہے کہ پہلے جس چیز کو انہوں نے ایمان سمجھا تھا وہ در حقیقت ایمان تھا ہی نہیں محض ایک خیالی چیز کو انہوں نے ایمان سمجھ لیا تھا۔ایسے ہی اور بھی لوگ ہوتے ہیں جو پہلے تو ایمان کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن بعد میں مرتد ہو کر گالیاں دینے لگ جاتے ہیں۔شیخ عبد الرحمن صاحب مصری اور فخر الدین صاحب ملتانی کو ہی دیکھ لو کس قد را خلاص کے دعوے کیا کرتے تھے لیکن بعد میں جب انہوں نے مخالفت شروع کر دی تو شیخ عبدالرحمن صاحب مصری سے جب پوچھا جاتا کہ آپ نے یہ باتیں کہاں سے سنیں تو وہ کہہ دیتے کہ فخر الدین صاحب سے سنی ہیں اور فخر الدین سے جب پوچھا جاتا کہ تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ تو وہ جواب دیتا کہ مصری صاحب سے پوچھو وہ ایسا کہتے ہیں لیکن اس سے پہلے یوں معلوم ہوتا تھا کہ یہ دونوں سلسلہ پر فدا ہورہے ہیں۔مجھے یاد ہے جلسہ سالانہ کی تقریر سے فارغ ہو کر جب بھی میں واپس جاتا شیخ عبدالرحمن صاحب مصری کا لڑکا اُن کا یہ پیغام لے کر پہنچ جاتا کہ مجھے اپنی تقریر کے نوٹ دے دیں۔میں اُن کی نقل کرلوں ، معلوم نہیں یہ تقریر شائع کب ہو۔اور یا آب اُن کی یہ حالت ہے کہ دنیا جہان کے سارے عیوب میری طرف منسوب کر رہے ہیں اور جب اُن سے پوچھا جاتا ہے کہ تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ تو وہ کہہ دیتے ہیں کہ فلاں جو ایسا کہتا ہے ہم کیوں نہ مانیں۔تو درحقیقت ایمان ہوتا ہی وہ ہے جو عَلى وَجْهِ الْبَصِيرَت پیدا ہو۔بغیر اس کے ایمانِ کامل پیدا ہی نہیں ہو سکتا۔جو چیز انسان کی دیکھی ہوئی ہو اُس کے متعلق اُسے کبھی حبہ نہیں ہوسکتا اور نہ اُسے کوئی تذبذب میں مبتلا کر سکتا ہے۔مثلاً آپ لوگ اس وقت یہاں بیٹھے ہیں اور میں آپ کے سامنے تقریر کر رہا ہوں اب اگر کوئی شخص آپ کو میرے متعلق یہ کہے کہ وہ تقریر نہیں کر رہے بلکہ فلاں جگہ سینما دیکھ رہے یا گا نائن رہے ہیں تو کیا آپ اسے مان لیں گے؟ کبھی نہیں