انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 78 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 78

ZA انوار العلوم جلد ۱۷ کے متعلق کہے گا کہ آب یہ ہمیں دیکھ سکتا ہے اسے بھی جنت میں لے آؤ۔اب میں یہ بتا تا ہوں کہ اگر ہم اپنے اخلاق کو درست کرنا چاہیں اور اپنی عادات میں ایسی تبدیلی پیدا کرنا چاہئیں کہ ہر قسم کے رزائل ہم سے دُور ہو جائیں تو محمد رسول اللہ ﷺ کے نمونہ سے فائدہ اُٹھا کر ہم کس رنگ میں ترقی کر سکتے ہیں؟ تعلق پاللہ کی بنیاد ایمان کامل پر یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ روحانی زندگی میں پر سب سے اہم چیز تعلق باللہ ہے جس کی بنیاد خص ایمانِ کامل پر ہوتی ہے اور درحقیقت یہی وہ ایمان ہے جو انسان کی سنجیدگی پر دلالت کیا کرتا ہے۔پس ہمیں دیکھنا چاہئے کہ رسول کریم ﷺ کے دل میں کس قسم کا ایمان پایا جاتا تھا کیونکہ ویسا ہی ایمان اسلام ہمیں پیدا کرنے کی ہدایت کرتا ہے۔میں دیکھتا ہوں کہ آجکل لوگ ایمان کا دعوی تو بہت کرتے ہیں مگر ایمان کی حقیقت بہت کم لوگوں کو معلوم ہوتی ہے۔ہماری جماعت میں خدا تعالیٰ کے فضل سے بڑے بڑے مخلص لوگ موجود ہیں لیکن پھر بھی کچھ لوگ ایسے نظر آ جاتے ہیں جو ایک وقت ایمان کے بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن دوسرے وقت مخالفوں کی ہاں میں ہاں ملاتے نظر آتے ہیں۔میں دیکھتا ہوں بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک می میرے پاس آتا ہے اور کہتا ہے ہماری جان آپ پر قربان ہے، ہمارا مال آپ پر قربان ہے، آپ کی غلامی کے بغیر تو زندگی کا کوئی لطف ہی نہیں مگر دوسرے وقت وہی شخص اپنی دیکھی ہوئی باتوں پر نہیں محض سنی سنائی باتوں پر مرتد ہو جاتا ہے اور کہتا ہے میں نے فلاں دوست سے ایسی ایسی بات سنی ہے۔اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ پہلے جس ایمان کا وہ اظہار کیا کرتے تھے وہ کسی بصیرت پر مبنی نہیں تھا۔انہوں نے ایک دوسرے سے سلسلہ کی باتیں سنی اور بیعت کر لی اور پھر ایک خیالی چیز کا نام انہوں نے ایمان رکھ لیا ورنہ یہ ہو کس طرح سکتا ہے کہ ایک شخص کے دل میں ایمان راسخ ہو جائے اور پھر وہ ارتداد کے گڑھے میں گر جائے۔گزشتہ دنوں میں نے ایک شخص کو اپنی جماعت سے خارج کیا ہے کیونکہ اُس نے بعض ایسی حرکتیں کی تھیں جو احمدیت کی تعلیم کے خلاف تھیں مگر مجھے یاد ہے ۱۹۲۸ء میں جب ٹربیون میں میری موت کی خبر شائع ہوئی تو یہی شخص اپنے بیوی بچوں کو ساتھ لیکر میرے ملنے کے لئے قادیان