انوارالعلوم (جلد 17) — Page 77
انوار العلوم جلد ۱۷ ناراض ہو جائے۔یہی بات اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں بیان فرمائی ہے کہ مَن كان في هذة أعمى فَهُوَفي الاخرة اعمی۔اس دنیا میں جس کے اندر وہ نور نظر پیدا نہ ہوا جس سے وہ اپنے خدا کو شناخت کر سکے ، اگلے جہان میں بھی وہ اندھا ہی اُٹھے گا۔فرق صرف یہ ہوگا کہ اس جہان میں اُسے احساس نہ تھا کہ وہ اندھا ہے مگر اگلے جہان میں حجاب اُٹھ جائے گا، تب اُس کے دل میں دُکھ اور درد پیدا ہوگا اور یہ دُکھ اور درد بڑھتا چلا جائے گا یہاں تک کہ اُس کے دل اور اُس کے دماغ اور اُس کے جگر اور اُس کے تمام اعضاء پر حاوی ہو جائے گا۔اُسے کھانے میں لذت نہیں آئے گی ، اُسے پینے میں لذت نہیں آئے گی ، اُسے ہر اچھی چیز بُری معلوم ہوگی اور وہ ہر وقت اپنے آپ کو ایک شدید عذاب میں گھر اہو اپائے گا۔یہ عذاب کئی شکلیں اور کئی طریق بھی اختیار کرے گا مگر وہ سب اسی ایک عذاب کا نتیجہ ہوں گے۔اور چونکہ ندامت انسان کے اندر احساس بیداری پیدا کرتی اور نیکی کا موجب بنتی ہے۔اس لئے احساس گناہ اور خواہش اصلاح سے ہی اُس کے اندر ایک نور پیدا ہو گا اور نیکی کا یہ احساس اُسے خود بخو دعرفان کی حالت کی طرف منتقل کرتا چلا جائے گا اور آخر ایک دن اسی نور کے نتیجہ میں اُسے وہ آنکھیں حاصل ہو جائیں گی جن سے وہ اپنے خدا کو دیکھ لے گا اور اسی کا نام خدا تعالیٰ نے جنت میں داخل ہونا رکھا ہے کیونکہ جنت وہ مقام ہے جہاں خدا دیکھا جاتا ہے۔جس کی آنکھیں ہی نہیں اُس نے بھلا وہاں جا کر لینا ہی کیا ہے۔کسی چیز کا نظارہ تو آنکھوں والے ہی دیکھ سکتے ہیں۔گو ہمارے ملک میں بعض ایسے بیوقوف بھی ہیں جو سینما دیکھنے کیلئے چلے جاتے ہیں حالانکہ وہ اندھے ہوتے ہیں لیکن عقلمندوں کا یہ طریق نہیں ہے۔جہاں کسی چیز کو دیکھنے کا سوال ہوگا وہاں ہمیشہ آنکھوں والے ہی جائیں گے، اندھے نہیں جائیں گے۔تو جنت وہ مقام ہے جہاں خدا تعالیٰ کی رؤیت ہوتی ہے۔جیسے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے۔وُجُوهُ يَوْمَئِذٍ نَاضِرَةُ - إلى ربها ناظِرَةٌ 19 اس دن بعض لوگ ہشاش بشاش ہوں گے اور اپنے خدا کی طرف نظر لگائے بیٹھے ہوں گے۔پس وہ جو اندھا ہے اُسے جنت میں لے جا کر کرنا ہی کیا ہے وہ باہر ہی رہے گا یہاں تک کہ اُس کے دل کی ندامت اور حسرت اور جلن سے اُس کی آنکھوں میں بینائی پیدا ہو جائے گی اور خدا تعالیٰ اُس