انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 443 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 443

انوار العلوم جلد کا ۴۴۳ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) نے فرمایا ہے کہ وہ تفقہ میں کمزور تھے۔پس اگر وہ ہماری جماعت میں سے کسی ایسے آدمی کو مقرر کر دیں جو تفقہ کے لحاظ سے کمزور ہو یا ہمارے نقطہ نگاہ کو واضح نہ کر سکے تو اس میں ہمارا نقصان ہوگا۔پس یہ منافقت کا سوال نہیں تفقہ اور بات کو سمجھنے اور سمجھانے کی اہلیت کا سوال ہے۔مولوی صاحب کہتے ہیں کہ جب میں اس شرط کو اپنے لئے مانتا ہوں تو آپ کیوں نہیں مانتے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اُن کو مجھ پر حسن ظنی ہے کہ میں اس بارہ میں دیانتداری سے کام لوں گا مگر مجھے ان پر نہیں۔ان کے پچھلے طرز عمل کو دیکھتے ہوئے میں یہی سمجھنے پر مجبور ہوں کہ وہ ضرور کوئی چالا کی کرنے کی کوشش کریں گے تو اُن کی ایسی ہی باتیں ہیں جو فیصلہ نہیں ہونے دیتیں۔وہ کیوں اسی طرح فیصلہ نہیں کرتے جس طرح دنیا ہمیشہ کرتی آئی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق عمل بھی یہی تھا۔آپ جاتے تھے اور اپنے دلائل سناتے تھے ماننے والے مان لیتے تھے اور انکار کرنے والے انکار کر دیتے تھے۔وہ بھی کیوں اس طرح نہیں کر لیتے ؟ وہ اپنے دلائل بیان کریں میں اپنے کروں گا۔وہ ایسا طریق کیوں اختیار کرتے ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار نہیں کیا ، جو حضرت موسیٰ نے اختیار نہیں کیا بلکہ جو کسی بھی نبی نے اختیار نہیں کیا۔نئے نئے طریقے پیش کرنے کے معنی تو یہی ہیں کہ وہ کوئی چالا کی کرنا چاہتے ہیں۔پس اس وقت جبکہ غیر مذاہب کے بھی بہت سے معزز اصحاب موجود ہیں میں اُن سے کہتا ہوں کہ ان میں سے کوئی صاحب مہربانی کر کے مولوی صاحب کو فیصلہ پر آمادہ کریں اور ان سے بات چیت کر کے مجھے اطلاع دیں اور انہیں سمجھائیں کہ فیصلہ کا جو طریق ہمیشہ سے چلا آ رہا ہے اُس کے مطابق وہ کیوں فیصلہ پر آمادہ نہیں ہوتے۔اُن کی یہ بات کہ مذہب کے فیصلہ کے لئے جج مقرر ہوں بالکل نا جائز ہے۔یا ایسے امور کے فیصلہ کیلئے جو عقائد میں داخل نہیں میرے حج مقرر کئے جانے کی شرط مان لیتے۔پر اُن کا یہ کہنا کہ میرے نمائندے وہ مقرر کریں اور اُن کے میں کروں با لکل خلاف عقل بات ہے۔پھر میں تو فیصلہ کے نہایت آسان طریق ان کے سامنے پیش کر چکا ہوں۔مثلاً میں نے کئی بار کہا ہے کہ :۔