انوارالعلوم (جلد 17) — Page 442
انوار العلوم جلد ۱۷ ۴۴۲ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا ثبوت مل گیا۔تو میں جس نے مذہب کے بارہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی بغیر ثبوت کے حکم ماننا تسلیم نہ کیا وہ کسی اور کو مذہبی عقائد کے بارہ میں حج کیوں کر مان سکتا ہے؟ پھر مولوی محمد علی صاحب ایک اور بات پیش کرتے ہیں۔بعض ایسے امور ہیں جو عقائد سے تعلق نہیں رکھتے۔ان کے بارہ میں بھی میں چاہتا ہوں کہ فیصلہ ہو جائے اور ان کے متعلق میں ان کی جج بنائے جانے کی شرط کو ماننے کو تیار ہوں۔مگر وہ اس بارہ میں بھی ایک عجیب بات پیش کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ تین حج میری جماعت میں سے ہوں اور تین اُن کے ساتھیوں میں سے ہوں لیکن جماعت احمدیہ میں سے تین آدمی وہ نا مزد کر یں اور اُن کے ساتھیوں میں سے تین میں کروں حالانکہ یہ بات بھی بالکل غیر معقول ہے۔یہ تو ایسی ہی بات ہے کہ دو آدمیوں میں کوئی مقدمہ ہو اور ایک جا کر عدالت میں کہے کہ مجھے اختیار دیا جائے کہ دوسرے فریق کی طرف سے وکیل میں مقرر کروں اور میری طرف سے وہ کرے یہ ایک ایسی بات ہے جسے کوئی معقول آدمی منظور نہیں کر سکتا۔صحیح طریق یہ ہے کہ میں اپنے نمائندے مقرر کروں اور وہ اپنے کریں مگر وہ اُلٹی بات کہتے ہیں یعنی یہ کہ میرے نمائندے وہ مقرر کریں اور اُن کے میں کروں۔اور جب میں اِس کا انکار کرتا ہوں تو وہ کہتے ہیں کہ تم بات کو نہیں مانتے کیونکہ تم جانتے ہو کہ تمہاری جماعت میں منافق ہیں اس لئے ڈرتے ہو اور یہ کہ میرے ساتھیوں میں چونکہ منافق نہیں ہیں اس لئے میں نہیں ڈرتا مگر اس کی وجہ یہ کیوں نہ سمجھی جائے کہ مولوی صاحب ہماری جماعت کے منافقوں سے تعلقات رکھتے ہیں اور میں ایسا نہیں کرتا۔یا وہ منافق بنا کر ہماری جماعت میں داخل کرتے ہیں گو میں یہ بھی نہیں کرتا۔پھر اس کا ایک اور پہلو بھی ہے یہ ایمان یا منافقت کا سوال نہیں ہر شخص بات کو سمجھنے اور اُسے حل کرنے کا اہل نہیں ہوتا۔بعض لوگ تفقہ کے لحاظ سے کمزور ہوتے ہیں مگر اس کے یہ معنی نہیں ہوتے کہ وہ مومن نہیں منافق ہے۔حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کو بہت سے مسائل یاد تھے مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام