انوارالعلوم (جلد 17)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 444 of 695

انوارالعلوم (جلد 17) — Page 444

انوار العلوم جلد کا ۴۴۴ بعض اہم اور ضروری امور (۱۹۴۴ ء ) ا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جماعت کے جو عقائد تھے اور جن کی اشاعت کی جاتی تھی وہی عقائد صحیح ہو سکتے ہیں۔میں اُن کو اُس زمانہ کی تحریروں میں سے اُن کے عقائد نکال دیتا ہوں اور وہ میری اس زمانہ کی تحریروں میں سے میرے عقائد نکال لیں۔ان کو اکٹھا شائع کر دیا جائے اور ہم دونوں اُن کے نیچے لکھ دیں کہ آج بھی ہمارے یہی عقائد ہیں وہ میرے حوالے نکال دیں میں اُن کے نکال دیتا ہوں اپنی طرف سے کوئی کچھ نہ لکھے۔ہاں اگر کوئی فریق دوسرے کے حوالہ کو ادھورے رنگ میں پیش کرے تو اُسے حق ہے کہ اُسے مکمل طور پر درج کرنے کا مطالبہ کرے اور اس کے ساتھ اُس حصہ کو شامل کرا سکے جس سے اُس کی عبارت پوری طرح واضح ہوتی ہو اور دونوں نیچے لکھ دیں کہ یہ ہمارے عقائد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں تھے اور آج بھی ہم ان پر قائم ہیں اور اس سے سارا جھگڑا ختم ہو جائے گا مگر وہ اس طریق کی طرف بھی نہیں آتے۔۲۔پھر ایک اور طریق یہ ہے کہ وہ جب بعض حوالے پیش کرتے ہیں تو ہم کیا کرتے ہیں کہ ان کی تشریح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے آخری زمانہ میں ایک غلطی کا ازالہ نامی رسالہ میں کی ہیں کہ جو بیان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا نبوت کے ہے۔گروہ۔بارہ میں شروع میں تھا اور جو تشریح آپ اس کی شروع میں فرماتے تھے وہی اس رسالہ میں ہے۔اور میں نے ان کے سامنے فیصلہ کا یہ طریق پیش کیا ہے کہ دونوں اس رسالہ پر دستخط کر دیں اور لکھ دیں کہ یہی ہمارا عقیدہ ہے اور پھر اسے شائع کر دیں۔میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تحریر پر دستخط کرنے کو تیار ہوں گا مگر وہ نہیں کرتے۔میں کہتا ہوں کہ اس رسالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے نبوت کی تشریح میں تبدیلی کی ہے مگر وہ اس بات کو نہیں مانتے اور کہتے ہیں کہ یہ بات درست نہیں بلکہ اس میں بھی وہی بات دُہرائی گئی ہے جو آپ اس سے پہلے بیان فرماتے رہے۔اور میں نے کئی بار فیصلہ کا یہ طریق ان کے سامنے پیش کیا ہے کہ دونوں اِس پر دستخط کر دیں اور لکھ دیں کہ ہمارا یہی عقیدہ ہے اور پھر اس رسالہ کو